مہترانی کے پیسے سے بنے ہوئے کنویں کے پانی کے استعمال کا شرعی حکم
کیا مہتر کے پیسے سے بنے ہوئے کنویں سے پانی پینا جائز ہے؟ جناب عالی مفتی صاحب! السلام علیکم بعد اظہار خیریت عرض حالات یہ ہیں کہ آپ قبلہ مفتی صاحب کی اس مسئلہ میں کیا رائے ہے؟ حدیث و ترجمہ کے ساتھ جواب مع دستخط اور مہر کے تحریر فرمائیں۔ (1) ایک آراضی زمین داری وقت آج سے تقریباً پچیس یا چالیس سال پہلے مسلمانوں کی زمینداری میں تھی اس آراضی پر ایک مہترانی بیوہ جس کا نام بدصیہ تھا جس نے زمیندار قاسم علی سے آراضی کنواں بنوانے کے واسطے طلب کیا اور زمیندار قاسم علی سے پانچ پھوڑا مروا یاز مین پر اور پانچ روپیہ بطور نذرانہ پیش کیا اس کے بعد کنواں تیار ہو گیا پکا بن کر پیسہ بدصیہ مہترانی کا لگا اور اس کے انتظام کار پنڈت بھگوان دین تھے جن کی زیر نگرانی بنا جس کی جگت وغیرہ پکی ہے اور کافی اونچی ہے باہر سے کوئی گندگی اڑ کر کنوئیں کے اندر نہیں جاسکتی ہے اس میں پانی کچھ لوگ اس لئے نہیں پیتے تھے کہ کنواں مہترانی کے پیسے سے تعمیر ہوا جو کہ مہترانی مر چکی تھی ۔ (۲) آج سے قریب ایک سال پہلے اس کنواں کے قریب میں آس پاس مسلمانوں کی نئی آبادی ہوئی تو ان لوگوں نے کنواں کا پانی پرواہی وغیرہ چلا کر پورا پانی و دیگر صفائی و دیکھ بھال اپنے ذمہ رکھ کر مطابق شرعی صفائی رکھنے لگے اور اس کا پانی بھی استعمال کرنے لگے جس میں کہ مسلمان اور کچھ چمار کے علاوہ اور کوئی مہتر وغیرہ پانی نہیں بھرتے ہیں۔ اس کنوئیں سے قریب تین یا چارسو بالٹی پانی روزانہ نکلتا ہے دیکھ بھال شرعی ہے۔ (۳) اس آبادی کا افتتاح کرنے کی غرض سے جناب مولانا احسان الحق صاحب طوطی کہند نجپوری الہ آباد سے بلائے گئے اور ان سے زبانی مسئلہ نمبر ار اور ۲ کی بابت دریافت کیا گیا تو انہوں نے پانی کا استعمال مسلمانوں کے لئے جائز قرار دیا اور کنواں بھی دیکھا اور کہا کہ مہتر کا پیسہ محنت ومشقت کی کمائی کا ہے کوئی سود یا بیاج کا پیسہ اس میں لگا نہیں ۔ پانی استعمال میں لایا جاسکتا ہے۔ دیگر ہندوؤں سے مہتر بہتر ہے۔
الجواب:اس کنوئیں سے پانی لینا جائز ہے جبکہ اس پانی میں کسی نجاست کا ہونا معلوم نہ ہوا اور اس وجہ سے کہ وہ مہترانی نے تعمیر کرایا کنوئیں کا استعمال حرام نہ ہو جائے گا۔ واللہ تعالیٰ اعلمفقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرلهشب ۲۰ رذی الحجہ ۱۴۰۰ھ