ہندو کے کنویں میں جانے سے پانی کی پاکی اور بغیر انزال دخول سے غسل کا حکم
کیا ہنود نجس ہیں؟ مرد نے عورت سے صحبت کی ، دخول ہوا مگر انزال نہیں ہوا، تو کیا دونوں پر غسل فرض ہے؟ کیا فرماتے ہیں علمائے کرام مندرجہ ذیل مسائل میں کہ: (1) ایک ہندو بغیر نہائے ہوئے کنویں میں برتن نکالنے کے لئے گھسا تو کیا کنواں نا پاک ہو گیا ؟ اگر نا پاک ہو گیا تو کتنا پانی نکالنا پڑے گا ؟ (۲) مرد نے عورت سے محبت کی خول ہو اگر انزال نہں ہو کیا مرد عورت پرغسل فرض ہے یا نہیں؟
المستفتی : رفاقت خال، مؤذن جامع مسجد شاه آباد مشرکین کو قرآن پاک میں جو فرمایا کہ انمَا الْمُشْرِكُونَ نَجِسٌ () اس سے مراد نجاست (1) قرآن کریم ، پاره ۱۰، آیت ۲۸ عقیدہ ہے نہ کہ نجاست بدنیہ۔ لہذا مشخص مذکور کے بدن پر اگر نجاست نہ تھی تو کنواں پاک ہے ورنہ نا پاک اور کل پانی نکالنالازم ہے۔ وھو تعالیٰ اعلم (۲) غسل فرض ہے۔ حدیث شریف میں ہے: اذا جلس بين شعبها الاربع ثم جهدها فقد وجب عليه الغسل ) واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضاخان از هری قادری ۲۹ / ذی الحجہ شریف ۱۴۲۲ھ