خنزیر کے بال کے برش سے مسجد، مزار یا مکان میں پینٹ کرنے اور اس کے استعمال کا شرعی حکم
خنزیر کے بال کے برش سے مسجد، مزار یا مکان میں پینٹ کر سکتے ہیں یا نہیں؟ جس دیوار کی پتائی اس برش سے ہو، اسے ہاتھ لگانے اور ایسے برش کے استعمال کا حکم کیا فرماتے ہیں علمائے کرام مسئلہ ذیل میں کہ:(1) آج کل جو برش پتائی و پینٹ وغیرہ کرنے کے چل رہے ہیں برش بیچنے والے دوکانداروں سے تحقیق کرنے کے بعد پتہ چلا کہ برش سوئر کے بالوں کا ہوتا ہے لہذا یہ برش مسجد مزاروں یا مکانوں میں مسلمان استعمال کر سکتا ہے یا نہیں؟(۲) جس مکان پر سوئر کے بالوں کے برش سے پتائی کر دی جائے اگر اس مکان سے کپڑے یا ہاتھ وغیرہ لگ جائیں تو نا پاک ہوگا یا نہیں اب اس مکان کے لئے کیا حکم ہے؟(۳) جس مسلمان کو یہ معلوم ہو کہ یہ برش سوئر کے بالوں کا ہے پھر وہ اسی برش سے مکان وغیرہ پوتے اس کے لئے کیا حکم ہے؟ قرآن وحدیث کی روشنی میں بحوالہ جواب عنایت فرمائیں فقط والسلام منجانب : غلام رسول خاں قادری نوری امام مسجد شاہ دانہ ولی صاحب رحمتہ اللہ علیہ بریلی
الجواب: دوکاندار کو یہ کیسے محقق ہوا کہ ان برشوں میں سوئر کا بال ہوتا ہے اور دوکانداروں کو جس نے بتا یا وہ کا فر فاسق ہے یا متدین ثقہ مسلم ہے اور متدین ثقہ مسلم ہے تو اس نے کیسے جانا جب تک ان سوالوں کا جواب نہیں ہو جاتا اس امر کی تحقیق شرعا نہ ہوگی اور جس بھی میں شرعی طور پر نجاست کی آمیزش کا تیقین نہ ہو وہ شی اپنی اصل طہارت پر باقی اور پاک رہے گی اور بالفرض اگر کسی خاص برش کے متعلق ثابت ہو جائے کہ یہ نجس ہے تو وہی خاص برش ممنوع ہوگا اور اس برش کا بیچنا خریدنا اور استعمال کرنا حرام ہوگا اور جسے وہ برش لگے گا وہ پٹی نجس ہوگی ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۱۵ رشعبان المعظم ۱۴۰۸