کیا مردہ پیدا ہونے والے بچے کو قبرستان میں دفن کرنا منع ہے؟
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مسائل ذیل میں کہ: زید کا قول ہے کہ جب بچہ مردہ پیدا ہو تو اسے قبرستان میں دفن کرنا منع ہے۔اس پر بکر نے کہا کہ ایسا نہیں ہے بلکہ مسنون طریقہ پر نسل اور کفن نہیں دیں گے اور نہ نماز جنازہ پڑھیں گے۔ یونہی بچے کو قبرستان میں دفن کریں گے ۔ فقط المستفتی محمد خلیل الرحمن، مهسا کن و تا پوسٹ مینی ضلع بریلی شریف (یوپی)
الجواب: زید کا قول محض غلط ہے بکر کا قول صحیح ہے بچہ کا اکثر حصہ جبکہ باہر نکل آئے اور اس وقت اس میں زندگی کے آثار نہ ہوں تو حکم یہی ہے۔ مراقی الفلاح میں ہے: (وان لم يستهل غسل ) وان لم يتم خلقة (في المختار) لانه نفس من وجه ( وادرج في خرقة) وسمى (و دفن و لم يصل عليه) طحطاوی میں ہے: قوله ( وان لم يتم خلقه فيغسل وان لم يراع فيه السنة الخ (۲) اسی میں ہے: قوله ( وان لم يستهل مثله ما اذا استهل فمات قبل خروج اكثر ه اما الاستهلال في البطن فغیر معتبر بالا ولی (۳) زید پر تو بہ لازم کہ غلط مسئلہ بتایا۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله