پیشاب کے قطرے بار بار آنے کی صورت میں نماز کی ادائیگی اور معذور شرعی کا حکم
پیشاب کا قطرہ بار بار آتا ہے تو نماز کیسے ادا کی جائے؟ حالت سجدہ میں پیشاب کا قطرہ آتا ہے اور بیٹھے یا کھڑے میں نہیں آتا تو نماز کیسے پڑھے؟ مکر می مولا نا مولوی اختر رضا خانصاحب! السلام علیکم ورحمتہ اللہ و برکاته دیگر احوال یہ ہیکہ از حد ضروری مسئلہ کا حل درکار ہونے کی غرض سے خدمت میں یہ نوازش نامہ حاضر ہے۔ میر اہار نیا کا آپریشن ہونے کے بعد پیشاب لمح لمحہ بعد مثلاً اٹھتے بیٹھتے، کھانستے وغیرہ بے وقفہ خارج ہو جاتا ہے ایسی حالت میں نماز کیسے ادا کی جائے ساتھ ہی ساتھ حج کا فارم بھی بھرا ہوں اس کا بھی خلاصہ محصول ہے۔ بدن، کپڑا، بستر سب نجس ہو جاتا ہے۔ لہذا اس سوال کا جواب دیکر ممنون و مشکور فرمائیں۔ المستفتی: محمد امین زیسی چیف ٹرسٹی مدرسہ تعلیم القرآن وا بھینا محلہ جونی مچھلی مارکیٹ بھیونڈی ضلع تھانہ (مہاراشٹر ) ۲۱۳۰۲
الجواب: اگر واقعہ یہ ہے کہ کوئی نماز کا وقت ایسا نہیں گزرتا کہ پیشاب کا قطرہ نہ آتا ہو بلکہ پیشاب کا قطرہ ہر وقت نماز میں آتا ہے تو آپ اس صورت میں معذور ہیں آپ کو شرعا یہ حکم ہے کہ ہر نماز کے لئے جب اس نماز کا وقت آئے وضو کیجئے اور اس سے فرض و سنت و مستحب ونفل پڑھیں پھر جب دوسری نماز کا وقت آئے تو اس کے لئے وضو کریں کہ وقت نکل کر پہلا وضو باطل ہو گیا اور کپڑا اگر دھونے کے بعد فور انجس ہو جاتا ہو تو چھوڑ دیں اور اگر نماز سے فارغ ہونے تک کپڑا پاک رہے تو دھونا ضرور ہے پھر آپ پر لازم ہے کہ اپنے عذر کو بقدر قدرت دفع کریں یا کم کریں مثلاً روئی بھگا کر باندھنے سے عذر دفع ہو یا کم ہو جائے تو آپ کو اس طور پر اس کا تدارک لازم ہے یونہی اگر مثلا سجدہ میں قطرہ آتا ہے اور بیٹھے یا کھڑے سے نہیں آتا ہے تو اشارہ سے نماز پڑھیں یا کھڑے سے آتا ہے اور بیٹھے سے نہیں آتا ہے تو بیٹھ کر نماز پڑھیں اور عذرجب مندفع ہو جائے تو آپ معذور نہ رہیں گے۔ درمختار میں ہے: وصاحب عذر من به سلس بول لايمكنه امساکه ان استوعب عذره تمام وقت صلاة مفروضة وهذا شرط العذر في حق الابتداء وفي حق البقاء كفى وجوده في جزء من الوقت ولو مرة وحكمه الوضوء لا غسل ثوبه نحوه لكل فرض ثم يصلى به فيه فرضاً نفلا فاذا خرج الوقت بطل (1) اسی میں ہے: وان سال على ثوبه فوق الدرهم جاز له ان لا يغسله ان كان لو غسله تنجس قبل الفراغ منها اى الصلاة والايتنجس قبل فراغه فلایجوز ترک غسله هو المختار للفتوى (٢) یہی حکم بستر وغیرہ کا ہے جس پر نماز پڑھی جائے۔ در مختار میں ہے: وكذا مريض لا يبسط ثوبا الاتنجس فوراًله ترکه (۳) اسی میں ہے: یجب رد عذره او تقليله بقدر قدرته ولو بصلاته موميا وبرده لا يبقى ذاعذر بخلاف الحائض (۴) رد المحتار میں ہے: قوله (و برده لا يبقى ذا عذر) قال في البحر متى قدر المعذور على رد السيلان برباط او حشو ا وكان جلس لا يسيل ولو قام سال وجب رده و خرج برده عن ان يكون صاحب عذر ويجب ان يصلى جالسا بايماء ان سال بالميلان لان ترک السجود اهون من الصلاة مع الحدث الخ (ه) والله تعالى اعلم فقیر محمد اختر رضاخان از هری قادری غفرله صح الجواب ۔ واللہ تعالیٰ اعلم ۳۰/ جمادی الاولی ۱۴۰۵ھ قاضی محمد عبدالرحیم بستوی غفرلہ القوی