خنزیر کے چمڑے والی فیکٹری میں کام کرنے اور اسے ہاتھ لگانے کا حکم
ہم لوگ بہار صوبہ کے رہنے والے مسلمان ہیں دہلی میں چمڑے کی فیکٹری میں کام کر رہے ہیں جس میں کبھی گائے کا چڑا، بھینس کا چھڑ اوغیرہ آتا ہے۔ اس درمیان کبھی کبھی فیکٹری میں خنزیر ( سوئر) کا چھڑا آگیا ہے۔ کچھ کا ریگر کام چھوڑ کر چلے گئے ہیں اور کچھ لوگ کر رہے ہیں۔ اب یہاں روزی روٹی کا سوال ہے۔ آپ اس مسئلہ کو حل کرتے ہوئے ہم لوگوں کے پاس جلد از جلد اس کا خیال ظاہر کیجئے ۔ اس کو دونوں نظریہ سے دیکھنا ہے ۔ مذہب بھی دیکھنا ہے اور روزی روٹی بھی دیکھنا ہے ۔ دہلی کی سبھی فیکٹریوں میں اکثر مسلمان ہی کام کرتے ہیں یہاں سب کی فیکٹریاں ہیں اور ہندوستان کے کونے کونے میں مسلمان کام کرتے ہیں اب اس مسئلہ کو حل کیجئے۔ المستفتی : خادم ماسٹر نبی حسین ،صداقت حسین، ہاؤس نمبر ۴۹۳ ہر دوار پوری گوٹان نگر دہلی
الجواب: خنزیر نجس العین ہے اسے ہاتھ لگانا جائز نہیں لہذا اس کی چرم نہ چھوئیں اور مجبور کیا تو اپنی شرعی مجبوری بتائیں نہ مانے تو ایسی نوکری چھوڑ دینا ضرور ہے جس پر حکم خدا اور سول جل وعلا وصلی اللہ علیہ وسلم کا خلاف کرنا پڑے۔خدا روزی دینے والا ہے اس پر بھروسہ کرنالازم ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم قال اللہ تعالی : وَمَا مِن دَابَّةٍ فِي الْأَرْضِ إِلَّا عَلَى اللهِ رِزْقُهَا (سورة الهود: ۴) وفی آیة اخرى: وَكَانَ مِنْ دَابَّةٍ لَّا تَحْمِلُ رِزْقَهَا اللهُ يَرْزُقُهَا وَإِيَّاكُمْ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيْمُ (سورة العنكبوت: ۲۰) فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله شب ۱۱ محرم الحرام ۱۴۱۱ھ صبح الجواب۔ خنزیر کا چھڑا د بافت سے بھی پاک نہیں ہوتا ہے۔ جو مسلمان وہاں کام کر رہے ہیں وہ مشترکہ طور پر فیکٹری کے مالک سے کہیں کہ ہم لوگ اس نجس جانور کے چمڑے کو نہ چھوئیں گے صرف حلال جانور کے چمڑوں کی دباغت وغیرہ کریں گے۔ اگر وہ مطالبہ منظور کرے تو ٹھیک ہے ورنہ اس کے یہاں ملازمت ترک کر کے دوسری ملازمت کریں ۔ اللہ تعالیٰ رزاق ہے وہ غیب سے روزی دے گا۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی مرکزی دار الافتاء ۸۲ سوداگران بریلی شریف