نا پاک کنویں سے کل پانی یکبارگی نکالنا ضروری ہے ورنہ کنواں پاک نہ ہوگا!
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ: ایک گاؤں کے کنویں میں کتے نے پیشاب کر دیا ہے زید نے کہا اس کنویں کا پانی کل نکالا جائے جب پاک ہوگا مگر ان لوگوں نے کوئی غور نہیں کیا اور اسی دن سے پانی خرچ کر رہے ہیں نہانا کپڑا دھونا کھانا پکانا وضو کر نا غسل کرنا سب خرچے میں لا رہے ہیں قریب ڈیڑھ ماہ ہو چکا ہے اب لوگوں کا یہ کہنا ہے کہ اب تک کیا کل پانی نہ نکلا ہو گا سو دو سو ڈول روزانہ نکل رہے ہیں بجائے کل پانی کے اب تک زیادہ بھی نکل گیا ہوگا یا ان لوگوں کے کہنے کے موافق کنواں پاک ہو گیا یا نا پاک ہے اگر یہ پاک ہو گیا تو اس سے پہلے جو وضو غسل، کھانا پکانا وغیرہ کیاہے اور وہ نماز جائز ہوئی یانہیں؟ ان لوگوں پر حکم شرع کیا ہے؟ امستفتی: مقصود خاں ، موضع ابھے پور ڈاکخانہ دیور نیاں ضلع بریلی شریف
الجواب: یکبارگی پورا پانی نکالنا ضروری تھا۔ ایسا نہ کیا تو نمازیں نہ ہوئیں اور کپڑے ناپاک ہوئے اور وہ سب لوگ گنہگار ہوئے تو بہ کریں۔ البتہ لازم ہے کہ کل پانی نکالیں ور نہ کنواں نا پاک رہے گا اور نمازیں برباد ہوں گی۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله