ماء مستعمل کی طہارت اور اس سے نجاست حقیقیہ کے ازالہ کا حکم
(۲) عمرو کا کہنا ہے آب وضو مستعمل پاک ہے مگر اس میں یہ صلاحیت نہیں کہ ناپاک چیز کو پاک کرے۔ (۳) عمرو کا بھی کہنا ہے کہ غسل فرض ، زندہ یا مردہ کا حیض و نفاس میں مستعمل ہونے کے باوجود نجس ونا پاک ہے۔ لہذا صورت مسئولہ میں قول زید درست ہے یا قول عمر و صیح ہے۔ برائے کرم معتبر کتب کے حوالہ جات کی روشنی میں صحیح حکم سے آگاہ فرما یا جائے ۔ المستفتی عتیق احمد ، پیلی بھیت یوپی
الجواب: آپ مستعمل وضو خواہ فسل کا پاک ہے اور اس سے نجاست حقیقیہ مثلا پیشاب و پاخانہ کا ازالہ بھی جائز ہے البتہ اس سے وضو و غسل درست نہیں پھر یہ طہارت کا حکم اس صورت میں ہے جبکہ اس پانی میں کسی نجاست کی آمیزش وضو غسل کے دوران نہ ہو گئی ہو ورنہ نجس ہے یہی حکم مسلمان میت کے غسل کے مستعمل پانی کا ہے۔ در مختار میں ہے: ”ولا یجوز بماء استعمل لاجل قربة أى ثواب ولو مع رفع حدث او من مميز او حائض لعادة عبادة ولومن جنب وهو الظاهر ليس بطهور لحدث بل لخبث على الراجح المعتمد () ،، رد المحتار میں ہے: ” (او غسل میت) کون غسالته مستعملة هو الاصح “ملتقطاً(٢) نیز رد المحتار میں ہے: قوله ( على الراجح ) مرتبط بقوله بل لخبث نجاسة حقيقة فانه يجوز ازالتها بغير الماء المطلق من المائعات خلافا لمحمد (۳) عمرو کا قول غلط ہے وہ تو بہ کرے۔ واللہ تعالیٰ اعلم
فقیر محمد اختر رضا خاں قادری از هری