مسح راس کا بہتر طریقہ کیا ہے؟ فتویٰ مصطفویہ کی ایک عبارت کی توجیہ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مسائل مندرجہ ذیل میں کہ کتب حدیث وفقہ میں سر کے مسح کرنے کا مسنون طریقہ یوں بیان کیا گیا ہے کہ دونوں ہاتھ کے انگوٹھے کلمہ کی انگلیاں چھوڑ کر باقی تین تین انگلیوں کے سرے کو ملا کر پیشانی کے بال کے آگے کی جگہ پر رکھے اور سر کے اوپری حصے پر گری تک انگلیوں کے پیٹ سے مسح کرتا ہوا لے جائے اور ہتھیلیاں سر سے جدار ہیں پھر ہتھیلیوں سے سرکی دونوں کروٹوں کا مسح کرتے ہوئے پیشانی تک واپس لائے ( الی آخرہ) یہی طریقہ مشہور ومعروف علماء کرام کا معمول ہے۔ لیکن حضور مفتی اعظم ہند علیہ الرحمۃ والرضوان نے اپنے فتویٰ مبارکہ میں تحریر فرمایا ہے کہ تین تین انگلیاں اور ہتھیلیاں مقدم راس سے اس طرح جانب گردن لے جائے کہ سر کے دونوں جانب بھی پوری پوری ہتھیلیوں کے نیچے آتی جائیں تو اس صورت میں یونہی پورے سر کا مسح ہو گیا پیچھے سے آگے لانا بیکار ہے اور اولیٰ یہی ہے۔ (فتاویٰ مصطفویہ جلد دوم ص ۶۰) حضور مفتی اعظم ہند قدس سرہ کا معمول شریف اسی طرح مسح کرنے کا تھا۔ اس فقیر کا بھی مشاہدہ ہے اور مکرمی جناب عبدالنعیم عزیزی صاحب مدظلہ العالی نے اپنی تالیف مسمی بہ حضور مفتی اعظم قدس سرہ ص ۴۱ میں اس معمول شریف کا ذکر بھی کیا ہے۔ فتویٰ مبارکہ میں حدیث وفقہ کی عبارات بحوالہ درج نہیں ہے اور سر کے مسح کرنے کا یہی طریقہ اولیٰ بھی فرمایا ہے لہذا اس مسئلہ کو دلائل سے مزین فرما ئیں تا کہ یہ مسئلہ خوب اچھی طرح واضح ہو جائے۔ المستفتی: قاضی محمد عطاء الحق عثمانی گونڈوی، علا والدین پور ڈاکخانہ سعد اللہ نگر گونڈہ
الجواب: سیدی الکریم جدی المعظم حضور مفتی اعظم قدس سرہ العزیز نے جو فر ما یا وہی اظہر ہے۔ اس کی سند تبیین و ہند یہ میں ہے: والاظهر انه يضع كفيه واصابعه على مقدم راسه ويمدهما الى قفاه على وجه يستوعب جميع الراس ثم يمسح اذنيه باصبعيه ولا يكون الماء مستعملا بهذا هكذافي التبيين ( ) واللہ تعالیٰ اعلم اور اسکے برعکس دوسرا طریقہ مختار نہیں بلکہ علامہ ابن الہمام نے فرمایا کہ سنت میں اسکی کوئی اصل نہیں۔ چنانچہ ردالمحتار میں ہے: وماقيل من انه يجافي المسبحتين والابهامين ليمسح بهما الاذنين والكفين لیمسح بهما جانبي الراس خشية الاستعمال فقال فى الفتح لا اصل له في السنة لان الاستعمال لا يثبت قبل الانفصال والاذنان من الرأس (1) واللہ تعالیٰ اعلم وما قيل من انه يجافي المسبحتين والابهامين ليمسح بهما الاذنين والكفين لیمسح بهما جانبي الراس خشية الاستعمال فقال فى الفتح لا اصل له في السنة لان الاستعمال لا يثبت قبل الانفصال والاذنان من الراس (۳) ترجمہ: دونوں سبابہ اور ابہام (شہادت کی انگلی اور انگوٹھے ) کو بوقت مسح جدار کھے یعنی پھیلا دے تا کہ ان سے کانوں کا مسح کرے اور ہتھیلی بھی پھیلائے رہے تا کہ اس سے سر کے کنارے کا مسح کرے اور یہ احتیاط اس لئے کہ مسح کا پانی مستعمل نہ ہو جائے اور فتح میں کہا اس کی سنت میں کوئی اصل نہیں اس لئے کہ قبل انفصال استعمال ثابت ہی نہیں ہوتا اور کان سر سے ہی ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں قادری از هری غفرله