ناپاک کیچڑ والی بالٹی کنویں میں ڈالنے سے کنویں کے پانی کی طہارت کا حکم
غسل جنابت کا پانی کنویں کے ماحول کی زمین پر گر کر کیچڑ آلود ہوتا ہے، اس پر بالٹی رکھی جاتی ہے جس سے بالٹی کیچڑ آلود ہوتی ہے، اس بالٹی کو کنویں میں ڈالنے سے کنویں کا پانی پاک رہے گا یا نا پاک؟ کیا فرماتے ہیں علماء دین مسئلہ ذیل کے متعلق کہ: (1) ایک کنواں ہے اور حال یہ ہے کہ اس کنواں کا ماحول پلاسٹر نہیں ہے اس کنواں کے پانی سے غسل جنابت کرتے ہیں اور عورتیں حیض وغیرہ کے کپڑے دھوتی ہیں اور پانی کنواں کے ماحول کی زمین کو کیچڑ آلود کر رہا ہے بالٹی وغیرہ اس کیچڑ پر رکھی جاتی ہے اور پھر وہی بالٹی کنویں میں ڈالی جاتی ہے مطلوب یہ ہے کہ آیا اس کنویں کا پانی پاک ہے یانا پاک اگر نا پاک ہے تو اس کنواں کے پانی سے جتنے شرعی امور یعنی نماز وغیرہ پڑھی گئی ہیں ان کے لئے کیا حکم ہے نماز کا اعادہ کرنا ہو گا یا نہیں صورت اول میں کتنے ایام کی نماز کا اعادہ کرنا ہو گا اگر ایک سال کی ماز کا اس سے زیادہ کا اعادہ ہو تو ادا کرنے کی کیا صورت ہوگی اور کنواں پا کیسے ہوگا؟
صورت مسئولہ میں کنویں کا پانی ناپاک ہے جبکہ وہ گندہ پانی اس کنویں میں گرتا ہو یا بانٹی میں نجاست یا نجاست آلودہ کیچڑ کا گا ہونا یقینی معلوم ہو محض خیال کافی نہیں ایسی صورت میں اس سے نہ غسل و وضو اور نہ کپڑوں کو دھونا جائز ہے اور اس پانی سے کئے گئے وضو و غسل اور دھوئے ہوئے کپڑوں سے جو نمازیں پڑھیں نہ ہوئیں انہیں پھیرنا واجب ہے اس کنویں میں نجاست گرنے کا وقت معلوم ہو تو اس وقت سے اسکی نجاست کا حکم ہے ورنہ جب دیکھی جائے اس وقت سے حکم نجاست ہو گا اور اسی پر عمل ہے جتنے ایام کی نمازیں اس ناپاک پانی سے پڑھیں اتنی کا اعادہ کرنا ہو گا خواہ سال بھر کی ہوں قضا نمازیں جلد ادا کرے اور وقتیہ کی سنتوں کے بجائے قضا ہی کی نیت کرے اس صورت میں کل پانی نکالنا واجب ہے۔ واللہ تعالی اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله