کنویں میں نجاست غلیظہ گرنے کا حکم اور وضو و نماز کا اعادہ
نجاست غلیظہ اگر کنویں میں گر جائے تو کتنا پانی نکالا جائے؟ اس پانی کے وضو سے پڑھی ہوئی نمازوں کا کیا حکم ہے؟ کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ: ایک پانچ سالہ بچہ نے مسجد کے کنواں میں پیشاب کر دیا ہے ۔ پیش امام محلہ منصور یہ کا کہنا ہے کہ نجاست غلیظہ اگر کنواں میں گر جائے تو سارا پانی نکالا جائے گا کنواں مذکور و مسجد کے پیچھے ہے اور اس کنواں میں اس قدر پانی ہے کہ سارا پانی نکالنا امکان سے باہر نظر آتا ہے مذکورہ کنواں پر عوام الناس کافی آتے ہیں یعنی مسلمان و غیر مذہب کے لوگ بھی اس سے پانی بھرتے ہیں اور ضروری بات یہ ہے کہ مذکورہ بچے کو پیشاب کرتے ہوئے کسی مرد بالغ اور کسی بالغہ عورت نے نہیں دیکھا مذکورہ بچہ کے ہم عمر چار ، پانچ بچوں نے دیکھا۔ ان میں سے ایک بچہ چلا اٹھا کہ پیشاب کرد یا پیشاب کر دیا وہ بچے پھر وہاں سے بھاگ گئے اب آپ ہم ناچیزوں کو جواب سے مستفیض فرمائیں کہ ہم اس کنویں کا کتنا پانی نکالیں شریعت مطہرہ کے مطابق ۔ فقط والسلام
الجواب بعون الملک الوہاب : صورت مسئولہ میں جبکہ غالب گمان اس بچہ کے پیشاب کرنے کا ہو کل پانی نکالنے کا حکم ہے اور ان نمازوں کا اعادہ لازم جواب تک اس پانی کے وضو سے پڑھیں مسجد کا کنواں مسجد کی حاجت کے لئے ہے اس سے گھروں میں پانی لے جانا جائز نہیں اور کفار کا اسے استعمال کرنا اور زیادہ موجب وبال ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرلہ