غسل خانے میں ستر کھولنے، قبلہ رو ہونے اور کشفِ عورت کے متعلق شرعی احکام
غسل خانے میں ستر کھول کر نہانا کیسا ہے؟ استنجا خانے میں پوری لنگی اُٹھا کر استنجا کرنا کیسا ہے؟ کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین حسب ذیل مسائل میں کہ: (1) اگر کوئی غسل خانہ میں ستر کھول کر اور منہ قبلہ کی جانب ہو اور لنگی کا پردہ کیا جو پہنے ہوئے ہے وہ بیٹھنے پر سینہ سے اوپر ہے۔ تو کیا یہ جائز ہے؟ (۲) اگر کوئی پیشاب خانہ میں کھڑے ہو کر لنگی کو اٹھا لیوے کہ پیچھے کا حصہ دیکھنے میں آئے اور اگر منع کرے تو یہ جواب دے کہ ریاح خارج ہونے سے ممکن ہے، کچھا گلا ہو، ایسے مسلمان پر کیا وعید ہے؟ المستفتي محمد حنیف معرفت مفتی عبدالعزیز خاں صاحب متصل لالہ کی بازار، محلہ چھوٹی بازار، شیخ پور ( اتر پردیش)
الجواب: (۱) صورت مسئولہ میں ضرور اس کے اعضاء عورت قبلہ رو ہوں گے اور یہ نا جائز ہے۔ لہذا قبلہ سے منحرف ہوکر بیٹھے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۲) کشف عورت لوگوں کے سامنے حرام ہے ، وہ سخت گناہ گار ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۲ ذی قعدہ ۱۴۰۳ھ