دینی مشن کی تبلیغ کے لیے ویڈیو اور جاندار کی تصویر کے استعمال کا شرعی حکم
(۴) زید عالم ہے اور یہ کہتا ہے کہ اعلیٰ حضرت رضی اللہ عنہ کا مشن پھیلانے کے لئے ویڈیو جائز ہے۔ یعنی زید کا کہنا ہے کہ ہندی فلم دیکھتے ہیں تو یہ فلم وغیرہ دیکھنے سے بہتر ہے کہ علمائے کرام کی تقریریں جو ویڈیو میں ہیں وہ دیکھیں تا کہ کچھ سیکھ سکیں ۔
(۴) جاندار کی تصویر شرعا حرام ہے۔ حدیث میں ہے: (1) اشد الناس عذابا عند الله المصورون (1) سب سے زیادہ عذاب کے مستحق حکم الہی میں وہ ہیں جوفوٹو ذی روح کا کھینچتے کھنچواتے ہیں۔ مشکوة شريف، ص ۳۸۵، باب التصاویر مجلس برکات مبارکپور اعظم گره اور تبلیغ کے لئے حرام کو ذریعہ بنانا حرام ہے تبلیغ دین کچھ اس پر منحصر نہیں کہ ویڈیو پر علماء ومشائخ وغیر ہم کی تصویر میں اتاری جائیں بلکہ یہ سرے سے تبلیغ دین ہی نہیں، یہ دین کو تماشا بناتا ہے۔ جونری تصویر کشی سے زیادہ سخت ہے۔ ہم نے خود اعلیٰ حضرت کے کلمات سے ثابت کیا ہے کہ اس مقصد کے لئے بھی ویڈیو کا استعمال ہرگز جائز نہیں۔ ہمارا رسالہ ٹی۔وی۔ ویڈیو کا آپریشن دیکھئے۔ واللہ تعالیٰ اعلم