کسی ولی کے لئے لفظ عالمین یا مدار العالمین کے استعمال کا حکم
[۲] حضرت سارے عالم کا ٹھہراؤ ہیں۔ [۳] حضرت سارے عالم کا قیام ہیں۔ [۴] حضرت سارے عالم کا مرکز ہیں، اور دائرہ ہیں، نیز حضرت پر سارے عالم کا انحصار ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ جہاں جہاں رب کی ربوبیت وہاں وہاں رسول محترم کی رحمت جہاں جہاں ربوبیت ورحمت وہاں وہاں حضرت مدار العالمین رحمتہ اللہ علیہ کی مداریت ۔ سوال یہ ہے کہ کسی ولی کے لیے جملہ مدحیہ کے ساتھ لفظ عالمین جیسا کہ مذکورہ بالا بیان موجود ہے اسے استعمال کرنا جائز ہے یا نہیں؟ دوسرے یہ کہ اگر لفظ کا استعمال جائز ہے تو پھر سیدنا غوث اعظم رضی اللہ مولیٰ تعالیٰ عنہ کو غوث العالمین اور سیدنا خواجہ معین الدین چشتی غریب نواز کو معین العالمین کیوں نہیں کہا جا تا بینوا توجروا مفصل و مدلل جواب مرحمت فرماکر ممنون فرمائیں۔ فقط لمستفتی: محمد مظفر حسین احمد قادری خادم دار العلوم فیض الاسلام، کمیش کال مضلع بستر ، ایم ۔ پی
مدار العالمین کہنا جائز نہیں، اس لئے کہ اس کے اکثر معانی خاصہ جناب رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اور دوسرا معنی خاصہ الوہیت ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله صح الجواب واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبدالرحیم بستوی غفرلہ القوی