اللہ تعالی کے برگزیدہ بندوں کا ذکر، امام اعظم کو ابوحنیفہ کہنے کی وجہ اور دیوبندیوں کے حامی کا حکم
اللہ تعالی نے اپنے برگزیدہ بندوں کا ذکر خاص اپنی عبادت میں رکھا ! امام اعظم کو ابوحنیفہ کیوں کہتے ہیں؟ کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ : زید کہتا ہے کہ امام اعظم رحمتہ اللہ علیہ کو ابو حنیفہ کیوں کہتے ہیں ؟ اور عمر و کا قول ہے کہ مسجد میں اللہ اور اس کے رسول کے سوا کسی کا تذکرہ نہ کیا جائے چاہے وہ بندہ خاص کیوں نہ ہو چاہے ولی کامل صحیح ۔ اور زید سنی ہے مگر تقویۃ الایمان وغیرہ پڑھتا ہے اور علمائے دیو بند وغیرہ کو کا فرنہیں کہتا ہے اور حق پر جانتا ہے تو کیا ایسے شخص کو سنی مانا جائے ؟ اس کے پیچھے نماز ہو سکتی ہے؟ اس کے ہاتھ کی قربانی جائز ہے؟ زید کا کہنا ہے کہ علمائے دیو بند نے یا کسی نے ایسی بات نہیں لکھی ہے یہ علمائے دیو بند وغیرہ پر افترا ہے وضاحت سے جواب مرحمت فرمایا جائے کرم ہوگا۔ فقط ۔ والسلام لمستفتی:عبدالغفارطیب بھائی ٹھیکیدا رام ناتھ پارہ ۵ / راجکوٹ (گجرات)
الجواب: حنیفہ اوراق کو کہتے ہیں زیادہ لکھنے کی وجہ سے آپ کو ابو حنیفہ کہا جاتا ہے اور عمرو کا قول غلط و بیہودہ ہے جس کے بطلان پر التحیات میں ” السلام علیک ایھا النبی ورحمة الله وبركاته السلام علينا وعلى عباد الله الصالحین گواہ ہے اللہ تعالیٰ نے اپنے برگزیدہ بندوں کا ذکر خاص اپنی عبادت میں رکھا جس سے ظاہر کہ ان کا ذکر اللہ ہی کا ذکر ہے تو مسجد میں کہاں سے ممنوع ہو جائے گا عمرو پر تو بہ لازم ہے۔ اور زید جبکہ دیو بندیوں کو دانستہ مسلمان جانتا ہے تو ہر گز سنی مسلمان نہیں بلکہ دیوبندیوں کی طرح اس پر بھی علمائے حرمین شریفین کا فتوائے کفر ہے۔ ”من شک فی کفره و عذابه فقد کفر (۱) کا مصداق ہے۔ اور وہ جو دیوبندیوں کی حمایت میں کہتا ہے وہ خود اس کا افترا ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله