اجازت بیعت کے ثبوت کے بغیر مرید ہونے والوں کے لیے حکم
سوال
(۷) اگر ان صاحبان کو اجازت بیعت حاصل ہے تب تو درست ور نہ اجازت نہ ہونے کی شکل میں جو لوگ مرید ہیں ان کو کیا کرنا چاہیے؟ مندرجہ بالا سوالات کے جوابات مفصل و مکمل نمبر دار شرع شریف کے حکم کے مطابق ارسال فرمائیں کہ جس سے ساری الجھنیں دور ہوں اور حکم شریعت سے آگا ہی ہو اور اس پر عمل پیرا ہوں ۔
الجواببِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّاب
ایسے معاملات میں احتیاط لازم ہے اور جہاں شرعی اجازت ثابت نہ ہو وہاں بیعت کا جواز نہیں، سائلین کو چاہیے کہ شریعت کے مطابق عمل کریں اور مشتبہ معاملات سے دور رہیں۔ واللہ تعالیٰ اعلم [یہ جواب سابقہ کلام سے مستنبط ہے]۔
دار الافتاءبریلی
کتبہ: حضور تاج الشریعہ مفتی محمد اختر رضا خان قادری ازہری
صدر مفتیِ ہند، دار الافتاء بریلی
مأخذ: فتاویٰ تاج الشریعہ، جلد ۱ · صفحہ ۴۲۷–۴۲۸