حضور غوث اعظم کے مناقب کی ثاہت اور ان پر اعتراض کی تردید
(1) کہتے ہیں کہ بڑے پیر صاحب کے جو مناقب بیان کیے گئے ہیں وہ بہت زیادہ بڑھا چڑھا کر بیان کیے گئے ہیں ان حالات کی بنا پر کچھ لوگ مذبذب ہیں کہ آیا کیا کریں کیونکہ ہم لوگ تو اپنے بزرگوں سے دیکھتے ہیں کہ گیارہویں شریف ہوتی ہے اور اسی پر ہم لوگ بھی عمل پیرا ہیں مگر کچھ لوگ جو مکن پور کے حضرات سے مرید ہیں سخت مخمصہ میں ہیں کہ کیا کریں اور یہ صاف طور پر دریافت کرنا چاہتے ہیں کہ جو ایسے پیر کے مرید ہیں، انہیں اس بارے میں شرع شریف کا کیا حکم ہے؟
الجواب: (1) سائل: مجیب احمد ، بیری اسب اللہ تعالیٰ کے قبضہ قدرت میں ہے۔ وہ جسے چاہے عطا فرمائے۔ قال تعالى : ذَلِكَ فَضْلُ اللهِ يُؤْتِيهِ مَنْ يَّشَآءُ وَاللهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيمِ (1) اور سوال میں جو وجوہ مذکور ہوئیں ان میں وجہ اول کا تو فضیلت میں بھی داخل ہو نا محل کلام ، چہ جائیکہ افضلیت اس سے ثابت ہو ۔ فارسی کا مشہور مقولہ ہے: دو بزرگی به عقل است نه به سال (۱) اور بحمدہ تعالیٰ سید نا غوث اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا علم ظاہر میں وہ مقام بلند تھا جو کم کسی کو نصیب ہوا ہوگا آپ اپنے عصر میں مذہب شافعیہ وحنبلیہ کے مفتی یگانہ تھے اور علم باطن میں جو مقام بلند تھا اسے کون سمجھے اس کی ادنیٰ جھلک ”فتوح الغیب و غنیۃ الطالبین“ سے ظاہر ہوتی ہے اور اگر یہی مدار افضلیت (1) سورة الجمعه : ۴ ،، (۲) گلستان سعدی، باب اول در سیرت پادشاہاں مجلس برکات قرار دیا جائے تو لازم کہ سید نا بدیع الدین شاہ مدار رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضور سرور دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم اور بیشتر صحابہ سے بھی افضل ہوں اور یہ صریح کفر و گمراہی ہے بلکہ جب عمر کی درازی ہی پر مدار ہے تو پھر شیطان کا رتبہ سب سے بڑا ہونا چاہیے حالانکہ وہ بدترین خلائق ہے تو ثابت ہوا کہ یہ وجہ بنائے فضل ہی نہیں افضل ہونا اس وجہ سے کجا۔ اور سید ناغوث اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ حسنی بھی ہیں حسینی بھی ہیں اور آپ کا قدم مبارک تمام اولیا کی گردن پر ہے اس امر کی شہادت متقدمین و متاخرین مشائخ و علما و اولیا سب نے اپنے اپنے زمانہ میں دی اور تمام اولیاے عصر نے قدم مبارک کو اپنی گردنوں پر لیا اور اس امر کی بنا پر آپ اپنے بعض مشائخ متقدمین سے بھی افضل ہوئے اور اس واقعہ کو وہ شہرت ملی کہ عرب و عجم اس سے واقف اور علما کی کتابیں اس کے ذکر سے مالا مال ہیں ، اسی طرح آپ کے دوسرے مناقب وفضائل مشہور اور بیشتر کتب میں مسطور تو آپ کی جلالت و عظمت تمام آفاق میں امر ثابت ومقرر اور ہر منصف کا مسلّمہ ہے اس میں اختلاف کرنا سعادت سے دور پڑنا ہے۔ اللہ تعالیٰ اعلم (۲) یہ ان کی جہالت ہے۔ گیارہویں بھی کیجئے اور ستر ہویں بھی اور ایصال ثواب میں منجملہ اولیا کو سید نا شاہ مدار رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بھی شامل کیجئے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۳) ہاں سیدنا میر عبد الواحد بلگرامی قدس سرہ السامی نے " سبع سنابل شریف میں خود حضرت سیدنا بدیع الدین مدار رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے یہ اخبار صحیحہ حکایات فرمایا ہے کہ میں نے اپنے سلسلہ کو درہم برہم کیا اور اس مضمون کے خطوط اپنے خلفا کے پاس بھیجےمگر یہ بات ایسی نہیں کہ جسے لیکر مداریہ سے الجھا جائے اور ان سے زبردستی یہ بات منوائی جائے کہ یہ بات ضروریات دین سے نہیں جس کے انکار سے آدمی کا فر ہو جائے نہ مداری کو یہ چاہیے کہ جولوگ ایک بزرگ کے قول کی بنا پر اس سلسلہ کو سوخت کہہ رہے ہیں ان سے نزاع کریں اور نوبت بہ اہانت و تکذیب پیشوائے دین پہونچائیں بلکہ یہ امر حرام کام بد انجام ہے اور اس سلسلہ کےسوخت ہونے سے لازم نہیں کہ وہ لوگ جو خود کو سیدنا شاہ مدار رحمتہ اللہ علیہ کی آل بتاتے ہیں جھوٹے ہیں وہ چیز دیگر ہے اور آل ہونا چیز دیگر اس دعوی کو انہیں پر چھوڑ نا چاہئے ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۴) ہمارے نزدیک اس باب میں سید نا میر عبد الواحد بلگرامی قدس سرہ کا قول معتمد ہے جو اس کے خلاف کہتا ہے سند صحیح ومقبول سے اس کو باطل کرے ورنہ اس کا قول نا مسموع ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۵) ان کے دعوی کے خلاف سبع سنابل کا قول گذرا۔ واللہ تعالیٰ اعلم (1) جولوگ ایسا دعویٰ کرتے ہیں ان پر لازم ہے کہ اپنے دعوی کا ثبوت شرعی بہم پہنچا ئیں ورنہ سخت ملزم ، اشد گنہگار، مفتری ہسزاوار سزائے آخرت ہیں اور وہ لائق پیری نہیں ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۷) کسی ایسے شیخ کے ہاتھ پر بیعت ہوں جو جامع شرائط پیری ہوا اور سلسلہ اس کا متصل ہو۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۲۵ ذیقعده ۱۳۹۹ھ