عبدالرحمن قاری اور فزاری کے فرق کی وضاحت اور بہتان کا رد
کیا اعلیٰ حضرت نے معاذ اللہ کسی صحابی کو کافر کہا ہے؟ نور محمد ٹانڈوی کا حوالہ کہ اعلیٰ حضرت نے عبدالرحمن قاری کو کافر کہا ہے، اس کی حقیقت کیا ہے؟
الجواب: (1) قول مشہور ماخوذ بہ ہے کہ عبد الرحمن قاری مذکور تابعی ہیں، الا کمال میں ہے: المشهورانه تابعى وهو من جملة تابعى المدينة وعلماءها . الاكمال في اسماء الرجال حرف العين فصل فى التابعين مع مشكوة المصابيح ص ۲۰۹ مطبع مجلس بركات وہابیہ نے انہیں از راہِ جہل صحابی بتایا ہے۔ اور اعلیٰ حضرت قدس سرہ پر تبرا کرتے رہے کہ صحابی کو کا فرکہ دیا ، اہلسنت کے علمائے کرام کے بار بار مطالبہ کے باوجود وہابیہ جب شخص مذکور کا صحابی ہونا ثابت نہ کر سکے تو شرم مٹانے کو یہ کہنے لگے کہ صحابی یا تابعی کو کافر کہہ دیا۔ مندرجہ سوال کے مضمون میں نور محمد ٹانڈوی آنجہانی نے بھی یہی رٹ باندھی ہے اور یہ دیو بندیوں کا اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ پر کھلا بہتان ہے انہوں نے ہرگز ہر گز کسی صحابی کو یا تابعی کو کا فرنہیں کہا بلکہ عبدالرحمن فزاری کو کا فرفرمایا ہے، جسے ناقل یا مرتب نے غلطی سے قاری لکھ دیا ہے، اس پر اس کے وہ افعال جو اسی الملفوظ میں مفصل درج ہوئے، مثلاً سرکار علیہ الصلاۃ والسلام کے چرواہے کو قتل کرنا سرکاری اونٹ لے جانا، صحابہ کرام کا حضور علیہ الصلاۃ والسلام کی معیت میں اسے اور اس کے ساتھیوں کو قتل کرنا شاہد عدل ہیں کہ وہ کافر تھا نہ کہ صحابی یا تابعی مگر دیو بندی اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ پر اعتراض کے جوش میں ایسے اندھے ہیں کہ ایسے شقی کو صحابی یا تابعی بتا رہے ہیں ، اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ کو کافر ٹھہرانے کی فکر میں اس کا فر کوصحابی یا تابعی بتا کر دین و ایمان سے ہاتھ دھوئے بیٹھے ہیں، یہ دھاندلی کا نتیجہ ہے اور بہتان کا ثمرہ ہے پھر فزاری کی جگہ قاری ہو جانے سے اعلیٰ حضرت کی تکفیر کے لئے یہ تو گڑھ لیا کہ انہوں نے صحابی یا تابعی کو کافر کہہ دیا مگر اپنے مذہب کی کچھ خبر ہے، دیوبندی دھرم میں صحابی کو کافر کہنے والا مسلمان ہے۔ چنانچہ فتویٰ رشیدیہ میں ہے: "جو شخص صحابہ کی تکفیر کرے وہ ملعون ہے اور وہ اس کبیرہ کے سبب سنت و جماعت سے خارج نہ ہوگا (1) اسی میں ہے: جو شخص حضرات صحابہ کی بے ادبی کرے وہ فاسق ہے (۲) اب دیو بندیوں سے رشید احمد گنگوہی کے ایمان و اسلام کی خبر پوچھئے بلکہ سب دیو بندی اپنے بابت بتائیں کہ ایمان کہاں رہا ؟ واللہ تعالیٰ اعلم ۔ تفصیل کے لئے تحقیقات مصنف مفتی شریف الحق دیکھئے۔