کسی صحابی یا مسلمان کو کافر کہنے کا شرعی حکم
سوال
اگر زید کسی صحابی کو کافر بتائے۔
الجواببِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّاب
الجواب: سحابی تو صحافی کسی مسلمان کو کافر کہنا سخت گناہ کبیرہ بلکہ بحکم ظاہر حدیث کفر ہے اور اسی پر ایک عظیم جماعت علماء کی چلی اور اگر واقعی کا فرجائے تو خود کا فر ہے زید پر تو بہ وتجدید ایمان لازم ہے اور تجدید نکاح بھی جبکہ بیوی والا ہو۔ در مختار میں ہے: ما يكون كفرا اتفاقا يبطل العمل والنكاح واولاده اولاد زنا و مافيه خلاف يومر بالاستغفار والتوبة وتجديد النكاح_اه (1) اور امہات المؤمنین کی توہین نہایت سخت ہولناک جرم ہے اور قرآن میں لفظی تحریف کفر ہے یونہی کسی آیت کریمہ کا انکار اور حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم تبلیغ دین میں بھول سے معصوم ہیں اس امر میں ان پر بھول کو جائز ماننے والا کا فر خارج از اسلام با جماع مسلمین ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم
دار الافتاءبریلی
کتبہ: حضور تاج الشریعہ مفتی محمد اختر رضا خان قادری ازہری
صدر مفتیِ ہند، دار الافتاء بریلی
مأخذ: فتاویٰ تاج الشریعہ، جلد ۱ · صفحہ ۴۱۹–۴۲۲
اسی باب کے متعلقہ فتاویٰ
غیر صحابہ کے لیے لفظ 'رضی اللہ عنہ' استعمال کرنے کا حکم
باب: کتاب العقائد
امہات المؤمنین کی شان میں گستاخی کرنے کا ہولناک جرم
باب: کتاب العقائد
حضرت امام حسین کی شہادت اور اسلام کی بقا
باب: کتاب العقائد
قرآن کریم میں دیدہ و دانستہ لفظی تحریف کا حکم
باب: کتاب العقائد
صحابہ کرام اور آلِ رسول میں افضلیت کا بیان
باب: کتاب العقائد