ایک کلینڈر میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کو ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر فضیلت دینے کا حکم
( تاریخ ہجرت ) ۷ ربیع الاول شریف بروز دوشنبه مطابق ۲۵ ستمبر ۶۲۲ ء داخلہ مدینہ پاک۔ ( قبا ) ۱۲ ؍ ربیع الاول شریف مطابق ۲۹ ستمبر ۲۲۶ء بروز جمعه تاریخ فتح مکہ ) . ار رمضان المبارک ۸ ھ مطابق ۶۳۰ ء حجتہ الوداع ۹ رذی الحجہ ۱۰ھ مطابق ماہ مارچ ۶۳۲ ء ( تاریخ وفات ( ۱۲ ؍ ربیع الاول شریف ۱۱ھ مطابق ۸ /جون ۶۳۲ء بروز دوشنبہ مبارکہ۔ (قیام دنیا)۲۳۳۳۰ ایام چھ گھنٹے یعنی تریسٹھ سال پانچ یوم بحساب ہجری اکسٹھ سال چوراسی دن بحساب عید (بشری زندگی) چالیس سال بے عیب، بے داغ ہستھری اور نہایت پاکیزہ۔ ( نبوی زندگی) تیس سال، روشن تابناک اور فضل و معجزات سے لبریز ۔ ( قیام مکہ ) بعد نبوت تیرہ سال صرف ، اسلام کی خاطر قریش کی مخالفتوں کے نرغے میں۔ ( قیام مدینہ ) بعد ہجرت پورے دس سال، فتوحات اور کامیابی سے بھر پور۔ (ایام تبلیغ ) ۸۱۵۵ را یام یعنی تقریباً تیس سال کچھ ایام کم و بیش ۔ ( تعداد اصحاب ) بوقت وصال آپ کے اصحاب کی تعدا دلگ بھگ ایک لاکھ چوبیس ہزار تھی کسی نبی کو یہ کثرت نصیب نہ ہوئی۔ اس کیلینڈ راور کلینڈر شائع کرنے والے کا شرعی حکم بھی بیان فرمایا جائے۔ المستفتی عظیم الدین کیراف بزم پرویز شاہدی کشمیری کوٹھی ، پٹنہ ۸۰۰۰۸
الجواب: کلینڈر ملاحظہ ہوا۔ اس میں حضرت ابراہیم علی نبینا وعلیہ الصلاۃ والسلام کو افضل الانبیاءلکھا ہے اور وہ بے شک افضل الانبیاء السابقین ہیں اور سب سے افضل ہمارے نبی علیہ الصلاۃ والسلام ہیں مگر کلینڈر کا ظاہر اس کے خلاف ہے۔ اس سے حضرت ابراہیم علی نبینا وعلیہ الصلاۃ والسلام کا ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وصحبہ وسلم سے افضل ہونا اور ہمارے نبی علیہ الصلاۃ والسلام کا مفضول ہونا ظاہر ہوتا ہے جبکہ قرآن کریم صاف صاف حضور علیہ الصلاۃ والسلام کی سب رسولوں پر فضیلت بتا تا ہے۔ قال تعالى : تِلكَ الرُّسُلُ فَضَّلْنَا بَعْضَهُمْ عَلَى بَعْضٍ مِنْهُمْ مِّنْ كَلَّمَ اللَّهُ وَرَفَعَ بَعْضَهُمْ درجت یعنی یہ رسول ہیں جنہیں ہم نے ایک کو دوسرے پر فضیلت دی ہے ان میں وہ ہیں جن سے خدا نے کلام فرمایا اور ایک کو سب پر درجوں بلند کیا۔ تفسیر امام فخر الدین رازی میں ہے: اجمعت الامة على ان بعض الانبياء افضل من بعض و على ان محمدا صلی الله عليه وسلم افضل من الكل۔ اسی میں ہے : المراد بهذه الآية محمد عليه السلام لانه هو المفضل على الكل اور احادیث بھی اس مضمون سے مالا مال ہیں غرض یہ قرآن وسنت اور اجماع امت کی مخالفت کا موہم ہے جس سے احتراز ضروری تھا، کلینڈر میں یوں لکھتے : ” فضل الانبیاء الاولین“۔ واللہ تعالیٰ اعلم بر تقدیر صدق سوال وہ شخص کسی منصب کے لائق نہیں کہ فاسق معلن ہے اور اسے کوئی منصب دینی دینا اللہ و رسول جل وعلا وصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم اور مسلمانوں سے خیانت کرنا ہے۔ حدیث میں ہے: ” من استعمل رجلا من عصابة وفيهم من هو ارضى لله منه فقد خان الله ورسوله والمومنين جو کسی عمل پر کسی جماعت سے ایسے شخص کو مقرر کرے جس سے دوسرا اللہ کو زیادہ پسند ہوتو اس نے اللہ عز وجل اور اس کے رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم اور مسلمانوں سے خیانت کی ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرلہ شب ۳۰ / ربیع الآخر ۱۴۰۴ھ