حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو گنہگار یا گاؤں کے چودھری جیسا بشر کہنے والے کا حکم
(1) زید نے یہ کہا کہ : ”حضور صلی اللہ علیہ وسلم معاذ اللہ گنہ گار تھے اور گاؤں کے چودھری یا ہم جیسے بشر تھے وغیر وغیرہ ۔ ہم لوگوں نے سنا تو بہت برہم ہوئے تو پھر زید نے کہا کہ میں نے ایسا نہیں کہا، جس پر پانچ لوگوں نے شہادت دی اور قرآن شریف اٹھا کر قسم کھائی کہ زید نے ایسا کہا ہے یہ شہادت عام جماعت کے روبرو ہوئی ہے۔ زید پر کیا فتوی لاگو ہوتا ہے؟ جواب عنایت فرمائیں۔
الجواب: (1) خط کشیدہ جملے بلاشبہ حضور علیہ الصلاۃ والسلام کی شان میں سخت گستاخی ہیں، قائل پر تو بہ وتجدید ایمان لازم ہوئی اور بیوی رکھتا ہو تو تجدید نکاح بھی کرے اور اگر واقعہ یہ ہے کہ وہ جملوں سے منکر ہے اور دوبارہ کوئی قول یا فعل منافی ایمان و اسلام اس نے نہ کیا تو اس کا یہی انکار کافی ۔ درمختار میں ہے: شهدوا على مسلم بالردة وهو منكر لا يعترض (له لا لتكذيب الشهود العدول بل ( لأن انكاره توبة و رجوع) یعنی فیمتنع القتل فقط و تثبت بقية احكام المرتد كحبط عمل وبطلان وقف وبينونة زوجة-الخ ) واللہ تعالیٰ اعلم (۲) وه شخص یا دانستہ مفتری ہے یا جاہل نادان - فقیر پر عمدہ تعالیٰ کفر کا فتویٰ نہیں ۔ والعیاذ باللہ تعالیٰ من الکفر ۔ اور اگر وہ دیدہ و دانستہ بے دلیل شرعی فقیر کو کافر کہتا ہے تو اس کا حکم خود اسی سے پوچھئے کہ بے دلیل شرعی مسلم کو کافر کہنے والا خود کون ہے؟ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرلہ صح الجواب۔ واللہ تعالیٰ اعلم ۱۶ صفر المظفر ۱۴۰۴ھ / نزیل کنه قاضی محمد عبدالرحیم بستوی غفرلہ القوی