حضور کے لیے لفظ 'کملی' کے استعمال کا حکم اور انگوٹھا چومنے کی شرعی حیثیت کا بیان
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین کہ: میلاد شریف کی محفل میں میلا دخواں حضرات نعت وسلام میں مندرجہ شعر پڑھتے ہیں جس کا مصرع اول ہے: کالی کملی والے تم پر لاکھوں سلام، ثانی مصرع : امت کے رکھوالے تم پر لاکھوں سلام۔ ہمارے قصبہ ساکیت میں جناب عبدالرحمن برکاتی مدرسہ حنفیہ جنگپور، نیہاں مدرسہ کی جانب سے جمعیت سفیر آتی ہے نہ تو عالم اور نہ ہی دینی مسائل میں اتنی معلومات ، مگر آپ وعظ و تقریر بیان فرماتے تیں ، آپ وعظ میں شدید تا کید فرماتے ہیں کہ بجائے کالی کملی والے کے کمبل شریف والے پڑھیں ، کملی والے پڑھنا شرعاً حرام ہے یہاں کے سنی خوش عقیدہ حضرات بیزار ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم نے اپنے بزرگوں اور علمائے کرام کی زبانی سنا ہے ہمارے لئے یہ ایک نئی بات ہے۔ لہذا حضور والا سے گزارش ہے کہ از روئے شرع سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان اقدس میں کیا مذکورہ شعر پڑھنا جائز ہے یا نہیں؟ قرآن وحدیث کی رو سے مفصل اور مدلل جواب عطا فرمائیں جس سے بخوبی واضح ہو جائے نیز غیر مستند عالم کو وعظ کہنا از روئے شرع کیسا ہے؟ مذکورہ عبد الرحمن صاحب نیپالی سلسلہ برکاتیہ سے یہاں لوگوں کو داخل بیعت بھی کرتے ہیں، ان کی خلافت میں رضوی حضرات مشکوک ہیں، فرماتے ہیں کہ مارہرہ شریف میں ہماری الگ گدی لگتی ہے، یہ بات کہاں تک درست ہے؟ مجلس وعظ میں اگر متعدد دفع محمد رسول اللہ کا نام نامی اسم گرامی آئے اور بجائے انگوٹھا چومنے کے صلی اللہ علیہ وسلم یا درود شریف صرف پڑھا جائے تو کیسا ہے؟ یا چومنا ضروری ہے؟ خلاصہ تحریر فرمائیں۔ زید کا کہنا ہے کہ ضروری ہے۔
الجواب: کملی تصغیر کا لفظ ہے اور سرکا را بد قرار علیہ الصلاۃ والسلام سے منسوب کسی چیز کی تصغیر اگر چه از راءِ محبت ہو، بوجہ ایہام وسوء ادب جائز نہیں ہے، پھر نعت میں وہ وصف بیان ہونا چاہئے جو ثابت ہو اور تعظیم واحترام پر شعر مبنی ہو ، کالی کملی کا لفظ محل کلام ہے اور اس شعر میں احترام بھی نہیں لہذا اس سے احتراز کریں اور ان صاحب کی خلافت وغیرہ کے بابت مجھے کچھ علم نہیں اور بے وجہ شک کیا معنی؟ اور سرکار کے نام اقدس میں ایک بار صلی اللہ علیہ وسلم اور اگر مجلس میں بار بار نام آئے تو بار بار درود شریف مؤکد و مستحب ہے اور انگوٹھا چومنا بھی مستحب ہے، لازم نہیں ۔ واللہ تعالیٰ اعلم۔ فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۱۱؍ رجب المرجب ۱۴۱۱ھ