حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کی اولیت اور عالم اجسام میں ظہور کا وقت
حضور کی نبوت سب پر مقدم ہے، ظہور نبوت عالم اجسام میں متاخر ہے! کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ: ایک عالم نے دوران تقریر بتایا کہ بعض لوگ کہتے ہیں کہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو نبوت چالیس برس کے بعد ملی ہنگر ایسا نہیں ہے کیونکہ حضور کی حدیث ہے اور حدیث بھی بیان کی کہ مصطفیٰ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں : میں نبی تھا جب آدم علیہ السلام مٹی اور پانی میں تھے۔ تو یہ سوال ہی نہیں آتا کہ آپ کو نبوت چالیس برس کے بعد ملے کیونکہ آپ تو نبی تھے اور عالم صاحب خاص بریلوی ہی کے خیال کے تھے اور پکے سنی تھے، اب مولانا حشمت علی رحمتہ اللہ علیہ شمع ہدایت حصہ اول میں فرماتے ہیں، سوال جواب لکھتے ہوئے سوال کے بعد جواب میں تحریر فرماتے ہیں کہ آپ کو نبوت چالیس برس کے بعد
الجواب: واعظ مذکور نے صحیح کہا: بے شک حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو نبوت بموجب حدیث شریف آدم على مدينا وعليه الصلاۃ والسلام کی پیدائش سے پہلے مل چکی تھی، ظہور نبوت عالم اجسام میں متأخر ہے، شمع ہدایت میں جو عبارت ہے اس کا یہی محل ہے، یہیں سے یہ بھی ظاہر کہ ہمارے نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم خلق میں اول اور ظہور میں آخر ہیں۔ واللہ تعالیٰ اعلم ۔ وصلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وصحبہ وسلم