حدیث "من عرف نفسہ فقد عرف ربہ" کی اسنادی حیثیت اور مفہوم
سوال
(۲) من عرف نفسہ فقد عرف ربہ حدیث ہے یا نہیں؟ اگر حدیث ہے تو یہ حدیث کس کتاب میں ہے اور اس کا مطلب تحریر فرمائیں۔
الجواببِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّاب
(۲) غالباً یہ صوفیائے کرام کا قول ہے، احیاء علوم الدین وغیرہ کتب میں اسے ذکر کیا ہے اور اس کا معنی قرآن وحدیث سے ثابت ہے، مطلب واضح ہے کہ جس نے اپنے نفس کے احوال و عجائب کو پہچان لیا اس نے اپنے پیدا کرنے والے خدائے ذوالجلال کو جان لیا کہ وہ واجب الوجود حدوث وسمات عیب و نقص سے منزہ ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم
دار الافتاءبریلی
کتبہ: حضور تاج الشریعہ مفتی محمد اختر رضا خان قادری ازہری
صدر مفتیِ ہند، دار الافتاء بریلی
مأخذ: فتاویٰ تاج الشریعہ، جلد ۱ · صفحہ ۳۴۶–۳۴۷
اسی باب کے متعلقہ فتاویٰ
حدیث "خلق اللہ آدم علی صورتہ" کے معنی اور اس کی تاویل کا بیان
باب: کتاب العقائد
پہلی صدی سے بارہویں صدی ہجری تک کے مجددینِ اسلام کی فہرست
باب: کتاب العقائد
علومِ نبوت کا تدریجی ظہور اور حکمتِ الہیہ
باب: کتاب العقائد
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کی اولیت اور عالم اجسام میں ظہور کا وقت
باب: کتاب العقائد
تجلی اور تخلیق میں فرق اور نورِ محمدی کا مخلوق ہونا
باب: کتاب العقائد