حدیث "خلق اللہ آدم علی صورتہ" کے معنی اور اس کی تاویل کا بیان
سوال
(1) د خلق الله آدم علی صورتہ حدیث کا کیا مطلب ہے؟ کیا اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو اپنی صورت پر پیدا کیا؟ اس حدیث کی تاویل ہوسکتی ہے یا نہیں؟
الجواببِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّاب
(1) حدیث شریف میں بلاشبہ تاویل ہے کہ اس کے ظاہر کا اعتقاد جناب باری میں منع ہے ۔ اللہ تعالیٰ صورت سے منزہ ہے، بعض علماء فرماتے ہیں کہ اضافت تعظیم کے لئے ہے، جیسے بیت اللہ وناقة اللہ میں امام غزالی نے یہ افادہ فرمایا کہ ضمیر ، آدم علی نبینا وعلیہ الصلوۃ والسلام کی طرف راجع ہے یعنی اللہ نے آدم کو آدم کی صورت پر پیدا فرمایا۔ واللہ تعالیٰ اعلم
دار الافتاءبریلی
کتبہ: حضور تاج الشریعہ مفتی محمد اختر رضا خان قادری ازہری
صدر مفتیِ ہند، دار الافتاء بریلی
مأخذ: فتاویٰ تاج الشریعہ، جلد ۱ · صفحہ ۳۴۶–۳۴۷
اسی باب کے متعلقہ فتاویٰ
علومِ نبوت کا تدریجی ظہور اور حکمتِ الہیہ
باب: کتاب العقائد
حدیث "من عرف نفسہ فقد عرف ربہ" کی اسنادی حیثیت اور مفہوم
باب: کتاب العقائد
تجلی اور تخلیق میں فرق اور نورِ محمدی کا مخلوق ہونا
باب: کتاب العقائد
پہلی صدی سے بارہویں صدی ہجری تک کے مجددینِ اسلام کی فہرست
باب: کتاب العقائد
حقیقتِ محمدیہ اور تجلیِ کوکب کی حقیقت
باب: کتاب العقائد