حقیقتِ محمدیہ اور تجلیِ کوکب کی حقیقت
سوال
نیز یہ کہ نور ذات خدا کی لطافت تک وہم و خیال کی رسائی نہیں ہو سکتی ، اسی طرح اس کی جلی کو بھی وہم و خیال سے مقید و محدود کیسے کیا جا سکتا ہے حالانکہ اس تجلی مذکورہ کو ایک کو کب کی شکل میں مشاہدہ کئے جانے سے پتہ چلتا ہے اس تجلی کی لطافت کو ثقالت و کثافت میں تبدیل ومحدود مقید مشاہد کر کے اس کو نور محمدی اور حقیقت احمدی صلی اللہ علیہ وسلم قرار دے دیا گیا، اصل واقعہ ایسا ہی ہے۔
الجواببِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّاب
حقیقت محمدیہ نور ہے اور نور وہ ہے جو خود ظاہر ہو، اور دوسروں کو ظاہر کرے تو عالم میں جو کچھ ظاہر ہوا وہ اسی نور اتم کا مظہر ہے، وہ کو کب بھی مظاہر محمدی سے ایک مظہر تھا۔ واللہ تعالیٰ اعلم
دار الافتاءبریلی
کتبہ: حضور تاج الشریعہ مفتی محمد اختر رضا خان قادری ازہری
صدر مفتیِ ہند، دار الافتاء بریلی
مأخذ: فتاویٰ تاج الشریعہ، جلد ۱ · صفحہ ۳۴۲–۳۴۵
اسی باب کے متعلقہ فتاویٰ
تجلی الٰہی کی تحدید اور حقیقتِ محمدیہ کا غیب ہونا
باب: کتاب العقائد
تجلی اور تخلیق میں فرق اور نورِ محمدی کا مخلوق ہونا
باب: کتاب العقائد
نورِ ذات کی تجلی کا مقام اور فضا کا ظہور
باب: کتاب العقائد
علومِ نبوت کا تدریجی ظہور اور حکمتِ الہیہ
باب: کتاب العقائد
نورِ محمدی صلی اللہ علیہ وسلم پہلی مخلوق اور تجلی ہے
باب: کتاب العقائد