علومِ نبوت کا تدریجی ظہور اور حکمتِ الہیہ
اور یہ بھی مسلمات سے ہے کہ حقیقت احمدی تو شروع ہی سے ذرے ذرے کی عالم اور ہر ذرے کی اصل ہے اور اس کا تعلق ہر ایک ذرے سے ہمہ وقت رہا ہے تو شخصیت و تشخص محمدی ہے تو بدرجہ اولی و تم ہونا چاہئے ، پھر کیا وجہ ہے کہ آپ کے علم میں درجہ بدرجہ موقع بموقع ترقی ہوتی رہی ہے حتی کہ جس وقت آپ نے ظاہری پردہ فرمایا اس وقت آپ کا علم مکمل مانا گیا، اس کا مطلب یہ ہوا کہ حقیقت احمدی سے شخصیت محمدی صلی اللہ علیہ وسلم کا نکشن درجہ بدرجہ ہوتا رہا ہے، یعنی جوں جوں شخصیت محمدی صلی اللہ علیہ وسلم میں لطافت و نورانیت بڑھتی گئی، ویسے ویسے اس کا کنکشن حقیقت احمدی ہوتا گیا حتی کہ آخری وقت میں مکمل ہو پایا جس کا مطلب بظاہر یہ سمجھ میں آتا ہے کہ شخصیت محمدی صلی اللہ علیہ وسلم کی کثافت و ثقالت کو حقیقت احمدی کے لئے حجاب بنایا گیا تھا جو کہ موقع بموقع مرتفع ہوتے ہوئے آخری وقت تک میں بالکلیہ مرتفع ہو پایا تھا۔
علوم نبوت کا ظہور تدریجاً حکمت الہیہ پر مبنی ہے، اسے درجہ بدرجہ علم کی ترقی سمجھنا بحسب ظاہر ہے، عجب نہیں کہ علوم غیبیہ سینہ اقدس میں جمع کئے ہوں اور جیسی جیسی حکمت الہیہ متقاضی ہوئی جس جس کے لئے اظہار کا حکم ہوا، حضور نے اس پر ظاہر فرمادیا اور علوم کے خزانہ میں وہ اسرار بھی ہیں جو حضور اور رب حضور کے درمیان را ز سر بستہ ہیں جن کی طرف اصلاً کسی کو راہ نہیں، حدیث معراج، جس میں وارد ہوا۔ واللہ تعالیٰ اعلم