نبی پاک صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے لیے خیر الامم کا لقب استعمال کرنا کیسا ہے؟
نبی پاک صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کو خیر الاسم " کہنا کیسا ؟ حضرت با برکت استاذ گرامی مخدوم محترم سلام و رحمت ، مزاج وہاج طالب خیر بخیر ہے، بعدہ معروض آنکہ کیا شعر وادب کے اندر سر کار دو عالم صلی المولیٰ تعالیٰ علیہ وسلم کے لئے خیر الام کا لقب استعمال کیا جا سکتا ہے؟ ہمارے یہاں ایک صاحب نے اپنے ایک شعر میں استعمال کیا ہے۔ فلاح دو عالم انہی کے لئے ہے جو مرضی خیر الامم چاہتے ہیں مذکورہ بالا شعر پر اکثر حضرات کو اعتراض ہے اور ان کا اصرار ہے کہ سرکار کے لئے یہ لقب استعمال نہ ہونا چاہئے ۔ لہذا اولیس فرصت میں بتفصیل محققانہ جواب دینے کی زحمت گوارہ فرمائیں۔ فقط ۔ والسلام محتاج دعا: خادم عبد المصطفى حشمتی محله صوفیانہ، دارالعلوم مخدومیہ ردولی (ضلع بارہ بنکی ) یوپی
خیر الامم امت محمدیہ علی نیہا التحیۃ والسلام کا لقب ہے اور یہ فضیلت ہمیں حضور پر نور خیر البشر سید الا نام کے وسیلہ سے ملی کہ ہم خیر الامم ہوئے یعنی سب امتوں سے بہتر تو حضور بدرجہ اولیٰ اس لقب کے مصداق ہیں کہ تمام اولین و آخرین سے افضل ہیں اور خیر الامم کا اطلاق جس طرح امت پر ہوتا ہے اسی طرح حضور علیہ السلام پر سائغ اور ان کے حق میں خیر الا نام کے مرادف ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله