اپنے آپ کو "اللہ ھو میاں" کہلوانے کی ممانعت اور اس کا انجام
اپنے کو اللہ ھو میاں“ کہلوانا کیسا ہے؟
الجواب: (1) پیلی بھیت کے قدیری سلسلہ کے ایک پیر کو ان کے مرید اللہ ھو میاں“ کہتے ہیں ان کے حالات مجھے معلوم نہیں اور کسی کو اللہ میاں کہنا حرام ہے کہ اللہ شر عاد عر فا خدائے پاک کے لئے خاص ہے کہ اللہ اللہ تعالی کا علم ذات ہے اور وہ بھی ایسا جس میں اشتراک لفظی کا کہیں پتہ نہیں معنی کہ معبود برحق ہے وہ تو ہے ہی ، لاشریک لہ بھی ہے بلکہ قرآن خود ناطق کہ اللہ صرف اللہ معبود برحق کا نام ہے اور اس کا ہم نام بے نشان ہے قال تعالی : هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَهِياً ) (1) سورة مريم: ۶۵ اور جب اس لفظ کا خاص بہ ذات باری ہونا نص صریح قرآن سے ثابت ہے، اس کے سوا کسی کے لئے یہ لفظ مستعمل نہ ہونا اس نص قرآنی سے ظاہر و بین تو اس لفظ کا ذات خدا کے لئے مخصوص ہونا ضروریات دین میں ایسا امراجلی ہوا جو عالم تو عالم کسی جاہل سے جاہل پر بھی مخفی نہیں بلکہ مسلمانوں پر کچھ موقوف نہیں ہر کا فربے دین بھی خوب سمجھتا ہے کہ یہ اسم جلیل الشان خاص اللہ تعالی کا ہے کسی بندہ پر نہیں بولا جاتا اور جب ضروریات دین کی تصدیق ایمان اور کسی ضروری دینی کا انکار کفر بلکہ اس سے جہل بھی منافی ایمان کہ ایمان کا مدار علم پر ہے اسی لئے ہمارے علمائے اعلام فرماتے ہیں کہ اگر ہمارے نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو آخری نبی نہ جانے تو مسلمان نہیں۔ تتمہ الاشباہ میں ہے: ،، اذا لم يعرف ان محمدا صلی الله تعالی علیه و سلم آخر الانبياء فليس بمسلم ) تو کسی بندہ کو اللہ میاں کہنا اس خصوصیت کے انکار یا اس سے جہل کا پہلو رکھتا ہے اور یہ دونوں امر منافی ایمان ۔ لا جرم فقہائے کرام نے غیر خدا کو رحمان کہنے والے کو کافر کہا کہ رحمان خاص خدا کا نام ہے شرح فقہ اکبر میں ہے: " من قال لمخلوق يا قدوس او القيوم او الرحمن او قال اسما من اسماء الخالق کفر “(۲) کشاف للزمخشری میں ہے: و اما قول بنى حنيفة في مسيلمة : رحمان اليمامة، وقول شاعر هم فيه وانت غيث الورى لازلت رحمانا، فباب من تعنتهم في كفرهم (۳) حاشیہ سید شریف میں اس کی تائید و توجیہ یوں فرمائی: وو ،، حيث بالغوافيه حتى خرجوا عن طريقة اللغة ايضا (۴) (1) الاشباه والنظائر على مذهب ابي حنيفة مع الحموي، ج ۲، ص ۹۱ ، كتاب السير باب الردة مطبع زكريا بکڈپو سهارنپور (۲) شرح فقہ اکبر، ص ۳۱۶ باب فصل في الكفر صريحا و كناية مطبع دار الایمان سهارنپور (۳) الكشاف عن حقائق غوامض التنزيل سورة فاتحة الكتاب، ج ۱، ص ۷ ، مطبع دار الكتب العلمية بيروت (۴) حاشیہ سید شریف رد المحتار میں ہے: ۲۰۲ كتاب العقائد ذات وصفات الرحمن لفظ عربی۔ وذهب الاعلم الى انه علم كالجلالة لاختصاصه به تعالی و عدم اطلاقه علی غیره تعالی معرفا ومنكرا واما قوله في مسيلمة_وانت غيث الورى لا زلت رحمانا ، فمن تعنته و غلوه فى الكفر و اختاره في المغنی‘ ملخصا (۱) پھر جب بندہ کو رحمن کہنا بوجہ خصوصیت به ذات خدا کفر ٹھہرا تو اللہ کہنا بدرجہ اولی کفر ہوگا کہ اللہ علم ذات اللہ ہے اور اس کی خصوصیت اظہر وا شہر ہے اسی لئے اسی شرح فقہ اکبر میں فرمایا : ثم قال لواحد من الجبابرة يا اله او يا الهى كفر اقول وانما قيد بكونه من الجبابرة لانه يكفر مع انه من ارباب الاکراه فغیره بالا ولی (۲) بلکہ اس قول کے کفری ہونے کی ایک وجہ اور ظاہر تر یہ ہے کہ کسی انسان کو اللہ کہنا اس کے لئے ادعاء الوہیت کی صورت ظاہرہ واضحہ رکھنا ہے اور یہ وہ بات ہے جس کے کفر ہونے پر خود قرآن حاکم و ناطق ہے قال تعالى: وَمَن يَقُلْ مِنْهُمْ إِنِّي إِلَهُ مِن دُونِهِ فَذَلِكَ نَجْزِيْهِ جَهَنَّمَ - الآية (۳) اور ان میں جو کہے کہ میں اللہ کے سوا معبود ہوں تو اسے ہم جہنم کی جزا دینگے ہم ایسی ہی سزا دیتے ہیں ستمگاروں کو ۔ (۴) الغرض لفظ اللہ خاصہ ذات الہیہ اور اس کا اطلاق غیر الہ پر حرام بلکہ کفر اور قائل پر تو بہلا زم اور احتیاطا تجدید ایمان بھی ضرور اور شادی شدہ ہو تو تجدید نکاح بھی ناگزیر اور یہ حکم اس کا ہے جو براہ نا دانی کسی کو اللہ کہہ دے۔ درمختار میں ہے: وو اذا كان في المسئلة وجوه توجب الكفر و واحد يمنعه فعلى المفتى الميل لما (1) رد المحتار، مقدمه ج ۱، ص ۷۷، ۷۶، دار الكتب العلمية، بيروت (۲) منح الروض الازهر شرح الفقه الاكبر ، ص ۳۱۵،۳۱۶، فصل فی الکفر صريحاوكناية، مطبع دار الايمان سهارنپور (۳) سورة الانبياء: ٢٩ (۴) کنزالایمان ۲۰۳ کتاب العقائد / ذات وصفات يمنعه ثم لونيته ذلك فمسلم و الالم ينفعه حمل المفتى على خلافه (۱) اسی میں ہے: ما يكون كفرا اتفاقا يبطل العمل والنكاح واولاده اولاد زنا، وما فيه خلاف يؤمر بالاستغفار والتوبة وتجديد النكاح“(۲) اب چند عبارات کتب مفیدہ ، خصوص لفظ الہ مزید ذکر کریں ۔ کفایہ میں ہے: لان الله اسم للموجود الحي الجامع لصفات الالوهية فيكون ذكره ذکر صفات کلہا معنی ولانه اخص الاسماء للموجود اذ لا يطلق على غيره لاحقيقة ولا مجازا (۳) کشاف للزمخشری میں ہے: ،، واما الله بحذف الهمزة فمختص بالمعبود بالحق لم يطلق على غيره (۴) حاشیہ میرسید شریف میں ہے: فاما الله فلم يستعمل الافى المعبود بحق“ (۵) مرقاۃ علامہ امام علی قاری میں ہے: ،، لم يسم به احد من الخلق بخلاف سائر الاسماء (1) بیضاوی میں ہے: وو و الله اصله اله فحذفت الهمزة وعوض عنها الالف واللام ولذالك قيل يا الله بالقطع الا انه مختص بالمعبود بالحق والا له في الاصل يقع على كل معبود ثم غلب على (1) الدر المختار ج ۲ ص ۳۶۸ باب المرتد، دار الکتب العلميه، بيروت (۲) الدر المختار، ج ۶، ص ۳۹۱ ۳۹۰ باب المرتد دار الكتب العلميه، بيروت (۳) شرح فتح القدير مع الكفاية ج ۱، ص ۳، مطبع احیاء التراث العربی (۴) الكشاف عن حقائق غوامض التنزيل سورة فاتحة الكتاب، ج ۱، ص ۶ ، مطبع دار الكتب العلمية بيروت (۵) حاشیہ میرسید شریف سورہ فاتحہ ج 1 (۶) مرقاة شرح مشكاة، ج ۱، ص ۴۷ ، دار الكتب العلمية، بيروت ۲۰۴ کتاب العقائد ذات وصفات المعبود بحق (1) یہی فتوی ہے سیدی سرکار مفتی اعظم ہند کا ۔ واللہ تعالی اعلم (۲، ۳) کا جواب، جواب نمبر ا ر سے ظاہر ۔ واللہ تعالی اعلم