پیلی بھیت کے اللہ ھو میاں اور ان کے بارے میں حضور مفتی اعظم ہند کا فتوی
پیلی بھیت کے اللہ ھو میاں کون تھے اور ان کے بارے میں حضور مفتی اعظم ہند دامت برکاتہم القدسیہ کا کیا فتوی ہے؟
الجواب: المستفتی: از محمد عرفان القادری مصطفوی ، طلاق محل کا نپور متعلم ایم اے (1) پیلی بھیت کے قدیری سلسلہ کے ایک پیر کو ان کے مرید اللہ ھو میاں“ کہتے ہیں ان کے حالات مجھے معلوم نہیں اور کسی کو اللہ میاں کہنا حرام ہے کہ اللہ شر عاد عر فا خدائے پاک کے لئے خاص ہے کہ اللہ اللہ تعالی کا علم ذات ہے اور وہ بھی ایسا جس میں اشتراک لفظی کا کہیں پتہ نہیں معنی کہ معبود برحق ہے وہ تو ہے ہی ، لاشریک لہ بھی ہے بلکہ قرآن خود ناطق کہ اللہ صرف اللہ معبود برحق کا نام ہے اور اس کا ہم نام بے نشان ہے قال تعالی : هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَهِياً ) (1) سورة مريم: ۶۵ اور جب اس لفظ کا خاص بہ ذات باری ہونا نص صریح قرآن سے ثابت ہے، اس کے سوا کسی کے لئے یہ لفظ مستعمل نہ ہونا اس نص قرآنی سے ظاہر و بین تو اس لفظ کا ذات خدا کے لئے مخصوص ہونا ضروریات دین میں ایسا امراجلی ہوا جو عالم تو عالم کسی جاہل سے جاہل پر بھی مخفی نہیں بلکہ مسلمانوں پر کچھ موقوف نہیں ہر کا فربے دین بھی خوب سمجھتا ہے کہ یہ اسم جلیل الشان خاص اللہ تعالی کا ہے کسی بندہ پر نہیں بولا جاتا اور جب ضروریات دین کی تصدیق ایمان اور کسی ضروری دینی کا انکار کفر بلکہ اس سے جہل بھی منافی ایمان کہ ایمان کا مدار علم پر ہے اسی لئے ہمارے علمائے اعلام فرماتے ہیں کہ اگر ہمارے نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو آخری نبی نہ جانے تو مسلمان نہیں۔ تتمہ الاشباہ میں ہے: ،، اذا لم يعرف ان محمدا صلی الله تعالی علیه و سلم آخر الانبياء فليس بمسلم ) تو کسی بندہ کو اللہ میاں کہنا اس خصوصیت کے انکار یا اس سے جہل کا پہلو رکھتا ہے اور یہ دونوں امر منافی ایمان ۔ لا جرم فقہائے کرام نے غیر خدا کو رحمان کہنے والے کو کافر کہا کہ رحمان خاص خدا کا نام ہے شرح فقہ اکبر میں ہے: " من قال لمخلوق يا قدوس او القيوم او الرحمن او قال اسما من اسماء الخالق کفر “(۲) کشاف للزمخشری میں ہے: و اما قول بنى حنيفة في مسيلمة : رحمان اليمامة، وقول شاعر هم فيه وانت غيث الورى لازلت رحمانا، فباب من تعنتهم في كفرهم (۳) حاشیہ سید شریف میں اس کی تائید و توجیہ یوں فرمائی: وو ،، حيث بالغوافيه حتى خرجوا عن طريقة اللغة ايضا (۴) (1) (۲) الاشباه والنظائر على مذهب ابي حنيفة مع الحموي، ج ۲، ص ۹۱ ، كتاب السير باب الردة مطبع زكريا بکڈپو سهارنپور شرح فقہ اکبر، ص ۳۱۶ باب فصل في الکفر صريحا و كناية مطبع دار الایمان سهارنپور (۳) الكشاف عن حقائق غوامض التنزيل سورة فاتحة الكتاب، ج ۱، ص ۷ ، مطبع دار الكتب العلمية بيروت (۴) حاشیہ سید شریف رد المحتار میں ہے: الرحمن لفظ عربی۔ وذهب الاعلم الى انه علم كالجلالة لاختصاصه به تعالی و عدم اطلاقه علی غیره تعالی معرفا ومنكرا واما قوله في مسيلمة_وانت غيث الورى لا زلت رحمانا ، فمن تعنته و غلوه فى الكفر و اختاره في المغنی‘ ملخصا (۱) پھر جب بندہ کو رحمن کہنا بوجہ خصوصیت به ذات خدا کفر ٹھہرا تو اللہ کہنا بدرجہ اولی کفر ہوگا کہ اللہ علم ذات اللہ ہے اور اس کی خصوصیت اظہر وا شہر ہے اسی لئے اسی شرح فقہ اکبر میں فرمایا : ثم قال لواحد من الجبابرة يا اله او يا الهى كفر اقول وانما قيد بكونه من الجبابرة لانه يكفر مع انه من ارباب الاکراه فغیره بالا ولی (۲) بلکہ اس قول کے کفری ہونے کی ایک وجہ اور ظاہر تر یہ ہے کہ کسی انسان کو اللہ کہنا اس کے لئے ادعاء الوہیت کی صورت ظاہرہ واضحہ رکھنا ہے اور یہ وہ بات ہے جس کے کفر ہونے پر خود قرآن حاکم و ناطق ہے قال تعالى: وَمَن يَقُلْ مِنْهُمْ إِنِّي إِلَهُ مِن دُونِهِ فَذَلِكَ نَجْزِيْهِ جَهَنَّمَ - الآية (۳) اور ان میں جو کہے کہ میں اللہ کے سوا معبود ہوں تو اسے ہم جہنم کی جزا دینگے ہم ایسی ہی سزا دیتے ہیں ستمگاروں کو ۔ (۴) الغرض لفظ اللہ خاصہ ذات الہیہ اور اس کا اطلاق غیر الہ پر حرام بلکہ کفر اور قائل پر تو بہلا زم اور احتیاطا تجدید ایمان بھی ضرور اور شادی شدہ ہو تو تجدید نکاح بھی ناگزیر اور یہ حکم اس کا ہے جو براہ نا دانی کسی کو اللہ کہہ دے۔ درمختار میں ہے: وو اذا كان في المسئلة وجوه توجب الكفر و واحد يمنعه فعلى المفتى الميل لما (1) (۲) (۳) رد المحتار، مقدمه ج ۱، ص ۷۷، ۷۶، دار الكتب العلمية، بيروت منح الروض الازهر شرح الفقه الاكبر ، ص ۳۱۵،۳۱۶، فصل فی الکفر صريحاوكناية، مطبع دار الايمان سهارنپور سورة الانبياء: ٢٩ (۴) کنزالایمان یہی فتوی ہے سیدی سرکار مفتی اعظم ہند کا ۔ واللہ تعالی اعلم (۲، ۳) کا جواب، جواب نمبر ا ر سے ظاہر ۔ واللہ تعالی اعلم (۵،۴) سیدی بدیع الدین مدار قدس سرہ نے خود اپنا سلسلہ درہم برہم ومنقطع فرمایا ہے اس کی تفصیلی حکایت سبع سنابل میں موجود ہے مگر یہ امر ضروریات دین سے نہیں لہذا اس کے سبب مدار یہ سے الجھنا نہ چاہئے ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۶) سلسلہ کا اتصال صحت بیعت کے لئے شرط ہے، انقطاع سلسلہ سے بیعت نا درست ہوگی۔ واللہ تعالی اعلم الجواب صحیح ۔ واللہ تعالی اعلم فقیر محمد اختر رضاخاں از هری قادری غفرلہ ۱۸ ؍ ربیع الاول ۱۴۰۱ھ صح الجواب ۔ واللہ تعالی اعلم الفقیر مصطفی رضا خاں قادری غفرلہ قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی دار الافتاء منظر اسلام محله سوداگران بریلی شریف، الجواب صحیح ۔ واللہ تعالی اعلم ۱۸ ؍ ربیع الاول ۱۴۰۱ھ تحسین رضا غفرلہ صبح الجواب۔ واللہ تعالی اعلم سید اعجاز علی عارف رضوی مدرس دار العلوم منظر اسلام الجواب صحیح ۔ واللہ تعالی اعلم صح الجواب ۔ واللہ تعالی اعلم بالصواب محمد صالح القادری المدرس لمدرستہ منظر اسلام بریلی | الفقير تقدس على الرضوی بریلوی تفسير البيضاوي سورة الفاتحه ، ج ، ا ،ص، ۳۱، دارالفکر بيروت