قرآن مجید میں علیہ کی قرات اور زمین کے ہبہ سے متعلق مسائل
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ملت اسلامیہ درج ذیل سوال میں جواب تفصیل کے ساتھ دینے کی زحمت فرمائی جائے کرم ہوگا۔ (1) قرآن مجید میں ”علیہ “ (ہ) کا پیش کس قاعدہ سے آیا ہے جبکہ سب جگہ ”علیہ “ (ہ) کے زیر سے ہے۔ (۲) زید کے وارثین نے بکر کو کچھ زمین ہبہ کی تھی زید کے وارثین ختم ہو گئے دوسرے حضرات کہتے ہیں کہ بکر نے یہ زمین اپنے نام اندراج کرالی جبکہ بکر کے بزرگوں سے وہ زمین قانونا اندراج ہے اور آج بھی ہے تو گو یا بکر اور اس کے وارثین اس زمین کے حق دار رہیں گے کہ نہیں؟ اور زید اس کے لینے کا حقدار رہے گا کہ نہیں؟ جو کام زید کے وارثین نے سپرد کیا تھا اگر وہ کام بکر نہ کرے تو کوئی حرج تو نہ ہوگا جبکہ زید کے وارثین نے بکر کو وہ زمین گذر اوقات کیلئے بہہ کی تھی نہ کہ کام لینے کی وجہ سے اور اگر کام کے سبب کی اور وہ کام نہیں کرتا تو زمین کا حقدار رہے گا کہ نہیں؟ جلد جواب عنایت فرمائیں، عین نوازش ہوگی !
الجواب: یہ سید نا حفص رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی قرآت ہے اور اس پر لام جلالت کو مفخم و پر پڑھا جائے گا اور ان کے سوا دیگر قرا کی قرآت بکسر الباء معہ ترقیق لام ہے اور حفص کی قرآت میں قسم با اصل علی کہ الف ہے کہ اشعار کے لئے ہے گویا علیہ میں یا منقلبہ الف ہی ہے تو جس طرح الف اگر حقیقہ موجود ہوتا تو وہ مضموم ہوتی اسی طرح اب جبکہ تقدیرا یائے منقلبہ میں موجود ہے ہا کو مضموم پڑھا گیا۔ اکلیل میں ہے: (علیه الله) حفص اى قرأ حفص بضم الهاء قبل الاسم الجليل ويتبعه تفخیم لام الجلالة والباقون بكسر الهاء والترقيق وفي حاشية البيضاوي للعلامة الشهاب قوله بضم الها كما تضم في نحوله و ضربه ومن كسرها راعى الياء قبلها_اه ، وفي القونوى بضم الها فان هذه الياء الساكنة اصلها الف فان على متى اضيف الى الظاهر كانت بالالف فتقول على زيد ثوب ومتى اضيفت الى الضمير كانت بالياء فلما كان اصل هذه الياء ان تكون الفا ضمها لان الالف لو كانت موجودة لم تكن الهاء الا مضمومة كذا في شرح العنوان مختصرا_اه (۱) (۲) ہبہ کی یا کچھ اس ہبہ پر راضی تھے اور کچھ ناراض تھے اور کچھ صیح الحواس تھے اور کچھ غیر صحیح الحواس تھے جبکہ زمین بکر کو ہبہ کی تو بکر سے بزرگوں کے نام کیسے اندراج چلا آتا ہے؟ اور کام بکر کے سپر دکس طور پر کیا؟ آیا یوں کہ جب تک وہ یہ کام کرتارہے زمین یا اس کی پیداوار پر قابض رہے گا یا کیا ؟ ان باتوں کا جواب دیا جائے تو جواب ہوگا۔ وھو تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله صبح الجواب ! قاضی عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی