امام کا ذبح پر اجرت لینے اور خیانت و کذب بیانی کا حکم
کیلئے معقول انتظام ہے اس کے باوجود زید مذبح میں دو روپیہ کے حساب سے ذبح کرنے جاتا ہے قبل نماز فجر ذبح کرتا ہے اور بعد نماز فجر ذبح کرتا ہے ایسے امام کے بارے میں شریعت مطہرہ کا کیا حکم ہے۔ (۲) زید قوم کا مراسی ہے گھر میں اس کی بیوی نماز نہیں پڑھتی اور نہ ہی اسے کچھ دینی باتیں معلوم ہیں یہاں تک کہ نماز جمعہ بھی نہیں پڑھتی ۔ اب زید امام ہونے کے باوجود کئی مرتبہ جھوٹ بولا مسجد میں نمازیوں کے سامنے اور زید کا حساب لکھا ہوا مسجد کا حساب غلط پکڑا گیا جو کہ خود استعمال کیا ایسے امام کیلئے شریعت مطہرہ کا کیا حکم ہے؟ مکمل ثبوت ضبط تحریر فرما ئیں ، عین کرم ہوگا ! المستلطفی محمد عمر معرفت محمد جمیل ٹھکیدار لائن نمبر ۱۳، آزاد نگر ہلد وانی ، نینی تال
الجواب: (1) اس پر کچھ الزام نہیں کہ یفعل جائز پر اجرت لینا حرام نہیں۔ واللہ تعالی اعلم (۲) فی الواقع اگر اس کی خیانت اور کذب بیانی اور بیوی کے ترک نماز سے رضا ہے تو اسے امام بنانا گناہ ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۲۳ / رمضان المبارک، ۱۴۱۲ھ