خاندانی تنازعات اور موروثی کرایہ کے مکان میں حق سے متعلق سوال
طرح گرا دیا ہے اس کا سنورنا ناممکن نظر آتا ہے زید کی ذمہ داریاں حد سے زیادہ بڑھ گئیں ہیں ملازمت کے علاوہ جو کام دھندہ گھر پر ہوتا ہے اس میں اس کے بھانجے کوئی مددنہیں کرتے اس کا لڑکا کم عمر اور کمزور ہونے کے باوجودا اپنی تعلیم کے ساتھ ساتھ اپنے باپ کے کام کاج میں بڑی مشقت اٹھاتا ہے خصوصا وہ بھانجا جو مقامی فرم میں ملازم ہے اپنے فرصت کے اوقات میں زید کے کام کاج میں ہاتھ نہیں بٹاتا ہے جب زید کی محنت شاقہ سے وہ اتنا پروان چڑھا زیدا گر گذارش بھی کرتا ہے تو کلثوم جھڑک دیتی ہے اور اس کا ساتھ زید کی والدہ اس انداز میں دیتی ہے کہ وہ ابھی ڈیوٹی پر سے آیا ہے وہ آرام کرے گا کام نہیں کریگا غرض زید پر ہر طرف سے بوچھار پڑ رہی ہے شوہر کی ہمدردی میں اس کی بیوی لب کشائی کرتی ہے تو ساس اور نندیں اس پر بری طرح برس پڑتی ہیں تو تو میں میں سے گھر کا ماحول اس قدر نا گفتہ بہ ہو گیا ہے کہ ہاتھا پائی ہو جانے کے قوی امکانات ابھر چکے ہیں اندیشہ ہے کہ یہ کہیں شدت نہ اختیار کر جائیں زید نے اپنے ماموں جان کی طرف ان ناگزیر حالات کو رجوع کیا مگر وہ بھی گھر میں مفاہمت کرنے سے قاصر رہے زید کی والدہ اور بہنیں ایک طرفہ ہو کر ہرے بھرے گھر کو اجاڑنے کے درپے نظر آتی ہیں زید کی سوتیلی بہن شاطرہ سسرال میں ٹھیک سے نہیں رہ پائی دیہاتی زندگی کام دھندہ اور جنرل اسٹور سب ٹھپ ہو گئے زید نے ان کی خستہ حالی کو دیکھ کر لڑکوں بچوں کے ہمراہ شاطرہ کو یہیں آجانے کا مشورہ دیا یہاں ان کے رہنے سہنے کا الگ بند و بست ہوالڑکوں کو کام دھندہ سے لگا یا شاطرہ کے بڑے لڑکے کی شادی بیاہ میں ہر قسم کا تعاون دیا اب بفضلہ تعالیٰ ان کے حالات بہتر ہیں شاطرہ کا شوہر اپنے شہر میں دوکانداری سنبھالتا ہے اور گاہے بگا ہے خبر گیری کیلئے یہاں آجاتا ہے کچھ عرصہ سے شاطرہ کا مزاج اب وہ پہلا سا نہیں رہا وہ بھی بہنوں کی ٹیم میں شامل نظر آتی ہے اس کا شوہر اور لڑ کے ان بکھیڑوں سے دور ہیں وہ صرف کام دھندے سے مطلب رکھتے ہیں مذکورہ حالات کے پیش نظر زید اپنی دونوں بہنوں نرگس اور سلطانہ کو ان کے کمرے ( ان کے نام الاٹ کئے گئے ہیں اور جب کی ان کی ماہانہ آمدنی بالترتیب چودہ سو اور ساڑھے تیرہ سوروپے ہیں یعنی کہ وہ خود کفیل ہیں ) میں رہنے سہنے کیلئے منتقل کر دیتا ہے اسی طرح کلثوم کو اس کے برسر روزگارلز کے ہمراہ گھر سے نکال علیحدہ رہنے پر مجبور کرتا ہے تو اس صورت حال میں زید پر کیا شرعی ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں؟ کیا وہ موروثی کرایہ کے گھر پر پورا پورا حق رکھتا ہے یا نہیں جب کہ والدہ تینوں
الجواب: المستفتی :محمدسعید محمد حسین انصاری گھر ۳۶۰۴، بھوئی گلی ناسک شہر، مہاراشٹر اس مکان کی کرایہ داری اگر اس کے نام ہے اور وہی کرایہ دیتا ہے تو اس میں رہنے کا حق اسی کو ہے وہ جس کو چاہے رکھے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضاخان از هری قادری غفرله صح الجواب واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبدالرحیم بستوی غفرلہ القوی