مسجد میں روشنی و زینت اور تراویح کے حافظ کے انتخاب کا شرعی حکم
ایک روز کا واقعہ ہے کہ ظہر کی نماز کے بعد زید نے سوال کیا کہ پچھلے سال رمضان شریف میں جس حافظ نے قرآن پاک سنایا تھا اسی حافظ کا پیغام آیا ہے کہ دوسرے محلہ کے لوگ ہم کو تین سو روپیہ دینا چاہتے ہیں جب کہ پچھلے سال ہم لوگوں نے اس حافظ کو دوسو روپیہ دیئے تھے اب دوسرے لوگ اس مرتبہ تین سو روپیہ دینا چاہتے ہیں آپ کا کیا خیال ہے بکر اور عمر نے کہا کہ اللہ تعالیٰ جو اپنی رحمت سے کر دے کیونکہ جو کچھ ہوتا ہے چندہ سے ہوتا ہے۔ اور اگر ان کو ( حافظ کو ) فائدہ ہوتا ہے تو بڑے شوق سے دوسری مسجد میں سنائیں زید نے کہا کہ کیوں نہیں ہو سکتا جو آپ لوگ رمضان کے دنوں میں ختم والے دن چراغ اور سجاوٹ کرتے ہیں یہ کام اگر نہیں کیا جائے تو پیسہ بچ سکتا ہے بکر نے کہا کہ روشنی ہونا ضروری ہے تو زید نے کہا کہ حرام ہے بکر نے کہا اللہ تعالیٰ مسبب الاسباب ہے کہ دوسرا انتظام ہو جائے گا کیونکہ حافظ کو پہلے پیسہ کا سوال نہیں کرنا چاہئے جو پچھلے سال سنایا تھا وہ نا بینا تھا اب بکر کو جو حافظ ملا ہے وہ بینا ہے اور اس نے کوئی اجرت طے نہیں کی اور سنانے کیلئے بھی تیار ہے۔ اب زید کو جب معلوم ہوا کہ دوسرے حافظ کا انتظام ہے تو زید کہتا ہے کہ بکر کو اس انتظام کا حق کچھ نہیں ہے لھذ اوہی نا بینا حافظ سنائیں زید اور بکر میں بحث ہے کہ کون حافظ سنائے اس کو تفصیل سے بیان فرمایا جائے اور روشنی و سجاوٹ کے بارے میں بھی تفصیل سے بیان فرمایا جائے۔ جائز ہے یا حرام؟
الجواب: روشنی اور زینت مسجد میں جبکہ اہل محلہ اپنے خرچہ سے کریں مباح ہے بلکہ نیت خیر سے کارخیر ہے۔علماء فرماتے ہیں: لاخير في الاسراف ولا اسراف فی خیر (۱) بکر کا اسے حرام بتا نا غلط ہے، حرام وہ ہے جسے اللہ ورسول حرام فرما ئیں اور جس کے بارے میں اللہ ورسول کچھ نہ فرمائیں وہ مباح ہے۔ علماء با الاتفاق فرماتے ہیں: الاصل في الاشياء الاباحة (۲) مفاتيح الغيب المعروف بالتفسير الكبير بحواله مجاهد، تحت الآية : ۱۴۱ ، دار الكتب العلمية، بيروت التفسير الاحمدی، ص ۱۳ ، مکتبه رحیمیه (1) (۲) پھر اس زینت کے متعلق تو خود قرآن کی نص صریح موجود ہے قرآن فرماتا ہے: قُلْ مَنْ حَرَّمَ زِينَةَ اللهِ الَّتِي أَخْرَجَ لِعِبَادِهِ (1) تم فرماؤ کہ اللہ کی اس زینت کو جو اللہ نے اپنے بندوں کیلئے پیدا کی حرام کرنے والا کون ہے؟ پھر اس حافظ کے لئے اصرار جو امامت کی اجرت مانگ رہا ہے غلط ہے تراویح کی اجرت طے کرنا حرام ہے بلکہ خالصا لوجہ اللہ پڑھانے کا حکم ہے بلکہ جہاں کا رواج یہ ہے کہ امام کو تراویح پڑھانے پر کچھ دیتے ہیں وہاں بے طے کئے لینا بھی حرام ہے۔ ’’لان المعروف کالمشروط کذا فی الدر المختار (۲) واللہ تعالیٰ اعلم اور امام یہ کہدے کہ میں کچھ نہ لوں گا اور مقتدی کہیں کہ ہم کچھ نہ دیں گے پھر اگر امام کی خدمت کریں تو حرج نہیں۔ ’’لان الصريح اقوى من الدلالة كذافى الدر المختار “ (۳) ہاں وقت کی اجرت طے کریں کہ اتنے وقت تک ہم سے جو چاہو کام لو تو وہ امام اب تک تراویح کے نذرانے کی گفتگو کر رہا ہے امامت کے لائق نہیں بلکہ دوسرا جو کچھ نہیں مانگتا اس کو امام کیا جائے گا جبکہ جامع شرائط ہو۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله یکیم شعبان، ۱۳۹۸ھ