حضور ﷺ کی قرآن کریم پر تفضیل کا مسئلہ اور اس کی تفصیل
(۵) بعض لوگ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو قرآن کریم سے افضل بتاتے اور استدلال یہ فرماتے کہ جب حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم مکہ میں تشریف فرما تھے وہ آیات قرآنی مکی کہلائیں جب مدینہ طیبہ میں تھے تو آیات قرآنی مدنی کہلائیں۔ سمجھ میں نہیں آتا کہ کہاں واجب وقدیم اور کلام اللہ کی صفت ہے اور ممکن وحادث اور عبداللہ ۔ آپ سے التماس ہیکہ مکمل تشریح کے ساتھ وضاحت فرما ئیں صاف اور خوشخط لکھوا دیں تا کہ عامہ اہل سنت بہرہ مند ہوسکیں نیز عربی فارسی وغیرہ عبارت کا ترجمہ بھی۔
(۵) مطلقاً افضل بنانا غلط و باطل اور بہت سخت ہے کہ اس سے کلام الہی بمعنی صفت الہیہ قدیمہ قائمہ بالذات پر تفضیل لازم آتی ہے جو کفر ہے ہاں مصحف ( کہ قرطاس و مداد سے عبارت ہے ) پر تفضیل بیشک ثابت ہیکہ وہ حادث ومخلوق ہے اور مخلوق سے سید عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم افضل ہیں ۔ اعلی حضرت علیہ الرحمہ جدالممتار حاشیہ ردالمحتار میں فرماتے ہیں: قوله: والاحوط الوقف اقول لا حاجة الى الوقف والمسئلة واضحة الحكم عندى بتوفيق الله تعالى فان القرآن ان اريد به المصحف اعنى القرطاس والمداد فلا شک انه حادث وكل حادث مخلوق و كل مخلوق فالنبی صلی الله تعالى عليه وسلم افضل منه وان اريد به كلام الله تعالى الذى هو صفته فلا شک ان صفاته تعالى افضل من جميع المخلوقات وكيف يساوى غیره مالیس بغیره تعالى ذكره وبه يكون التوفيق بين القولين اه۔ واللہ تعالیٰ اعلم