قرآن کریم کے کلام نفسی اور کلام لفظی کی وضاحت اور ان کے قدیم و حادث ہونے کی تحقیق
(۲) قرآن معنی الفاظ کا نام ہے اور لفظ حروف کا محتاج تو بعض حروف کو منزل من اللہ فرماتے اور قدیم جانتے ہیں۔ حالانکہ اللہ عز وجل کا کلام نفسی ، صوت سے پاک ہے جس کو الفاظ کے لباس میں بندوں پر ظاہر فرمایا گیا تو قرآن کریم معنی مفہوم کا نام ہوا اس کی حقیقت بتائیں اور اصلاح فرمائیں۔
(۲) قرآن اللہ تعالیٰ کا کلام قدیم ہے جو اصوات معروفہ وحروف معہودہ سے منزہ ہے اس لئے کہ وہ اس کی صفت ذات ہے اور اس کی ہر صفت قدیم ہے اور اصوات معروفہ و حروف معلومہ حادث اور وہ قیام حوادث سے منزہ ہے۔ علامہ فضل رسول بدایونی علیہ الرحمہ کی کتاب مستطاب المعتقد المنتقد میں ہے: وو و منه انه متكلم بكلام قديم لامتناع قيام الحوادث بذاته سبحنه قائم بذاته ليس بحرف ولا صوت لانه صفة له وهو متعال عنه الخ ازاں جملہ یہ کہ اللہ تبارک و تعالیٰ کلام قدیم کا متکلم ہے اس لئے کہ اس کی ذات کے ساتھ حوادث کا قیام محال ہے وہ کلام اس کی ذات کے ساتھ قائم ہے اور حرف اور آواز نہیں اس لئے کہ وہ اس کی صفت ہے اور وہ حرف و آواز سے منزہ ہے۔ اسی معنی کر قرآن عظیم اللہ تعالیٰ کی صفت قائم بذاتہ تعالیٰ کا نام ہوا جسے کلام نفسی سے تعبیر کیا جاتا ہے کہ نظم و معنی کا مجموعہ ہے۔المعتقد میں ہے: دو و هذالكلام القديم القائم بذاته يقال له الكلام النفسى ولا يوصف بانه عربی او عبرى انما العبرى والعربى هو اللفظ الدال عليه اور یہ کلام قدیم جو اس کی ذات کے ساتھ قائم ہے اسے کلام نفسی کہتے ہیں اور وہ نہ تو عربی سے موصوف ہے نہ عبرانی سے، عبرانی اور عربی تو لفظ ہے جو کلام نفسی پر دلالت کرے۔ اور چونکہ احکام شرعیہ کی دلیل لفظ ہے اسی لئے ائمہ اصول فقہ نے قرآن کی تعریف یوں کی کہ وہ مصاحف میں مکتوب ہے تو اتر کے ساتھ منقول ہے۔ اور انھوں نے قرآن کریم کو نظم ومعنی دونوں کا نام قرار دیا یعنی نظم کو اس حیثیت سے کہ معنی پر دال ہے قرآن کہا ہے۔ المعتقد میں ہے: ولما كان دليل الاحكام الشرعية هو اللفظ عرف ائمة الاصول بالمكتوب في المصاحف المنقول بالتواتر وجعلوه اسماً للنظم والمعنى جميعاً أى النظم من حيث دلالته على المعنى یہاں سے ظاہر کہ قرآن کریم کا اطلاق کلام نفسی و کلام لفظی دونوں پر ہوتا ہے اور یہ کہ کلام نفسی اللہ تعالی کی صفت قدیمہ ہے جو حروف واصوات معروفہ سے پاک ہے اور کلام لفظی کہ حروف واصوات سے عبارت ہے حادث ہے اور یہی کلام لفظی منزل من اللہ ہے اور حروف و اصوات معروفہ ضرور حادث ہیں جس کی نسبت باری تعالی کی طرف بدعت ہے اور اس کا قائل بدعتی، گمراہ ہے۔ ہاں جو ایسے حروف واصوات کا قول کرے جو اصوات و حروف حادثہ معروفہ کے مشابہ نہیں نہ اعراض غیر قارہ ہیں اور نہ مترتبہ الا جزاء ہیں اور انھیں قدیم بنائے تو اس کے بطلان پر شرعاً کوئی دلیل نہیں۔ المعتقد میں ہے: دو ،، مبتدعة الحنابلة قالوا كلامه تعالى حروف و اصوات تقوم بذاته تعالى وهو قديم الخ یعنی حنابلہ کے مبتدعین نے کہا کہ اللہ تعالی کا کلام حروف واصوات ہیں جو اللہ کی ذات کے ساتھ قائم ہیں حالانکہ وہ قدیم ہے۔ اس کے تحت اعلی حضرت عظیم البرکت قدس سرہ نے المستند المعتمد میں فرمایا: اقول: ای اصوات و حروف كالمعهود المعروف وبطلان هذا غنى عن البيان کماقال وهذا قول باطل بالضروة ا هـ اما القائل منهم بقدم حروف واصوات لاتشابه الحروف المحدثة او الاصوات الحادثة وليست من الاعراض السيالة الغير القارة في الوجود ولا مترتبة الاجزاء فلا دليل قطعيا من الشرع على بطلانه بل يشير اليه بعض كلام علمائنا وعليك بالمواقف والملل و ما سمينا من قبل - اه یعنی میں کہتا ہوں ( کہ علامہ فضل رسول قدس سرہ کی مراد ) اصوات و حروف مثل حروف واصوات معروفہ ہیں اور اس دعوی کا بطلان محتاج بیان نہیں چنانچہ انھوں نے کہا کہ یہ قول بداہتہ باطل ہے۔ رہاوہ جوان حروف واصوات کے قدیم ہونے کا قائل ہو جو حروف واصوات حادثہ کے مشابہ نہ ہوں اور نہ ان اعراض سے ہوں جو ذی قرار نہیں اور نہ ان کے اجزاء مرتب ہوں تو اس کے بطلان پر شرعاً کوئی دلیل نہیں بلکہ ہمارے علماء کا بعض کلام اس کی طرف مشیر ہے۔ اور تم پر مواقف وملل اور جن کتابوں کا ہم نے پہلے نام لیا مطالعہ ضروری ہے۔ پھر کلام نفسی و کلام لفظی کی طرف تقسیم متاخرین کا مذہب ہے جسے انھوں نے رد معتزلہ اور کم فہموں کی تفہیم کے لئے اختیار فرمایا جس طرح متشابہات کی تاویل اختیار کی۔ اور اصل مذہب جس پر ائمہ سلف ہیں وہ یہ ہے کہ قرآن میں اللہ تعالی کا کلام ہے جو واحد ہے اس میں تعددنہیں نہ خدا سے جدا ہوا نہ بھی جدا ہوا اور نہ کسی دل نہ زبان نہ کسی ورق اور کان میں حلول کئے ہوئے ہے۔ کہ وہ قدیم ہے اور ہم اور ہمارا حفظ اور تلاوت اور ہاتھ اور کتابت اور کان اور سماعت حادث ہیں اور قرآن قدیم قائم بذات باری تعالیٰ ہمارے دلوں پر مفہوم کی صورت میں اور زبانوں پر منطوق کی صورت میں اور ہمارے مصحف میں مکتوب کی شکل میں اور ہمارے کانوں میں مسموع کے رنگ میں تجلی فرما رہا ہے تو وہی مفہوم ومنطوق و منقوش و مسموع ہے نہ کہ کوئی شئی دیگر جو اس پر دال ہو اور یہ بغیر اس کے کہ اللہ سے جدا ہو یا حوادث سے متصل ہو یا کسی شئی میں حلول کرے۔ بالجمله در حقیقت قرآن وہی کلام الہی ہے جو واحد ہے جس کی تجلیاں مختلف ہیں اور تجلی کا تعدد اس شئی متجلی کے تعدد کا مقتضی نہیں۔ دمبدم گر لباس گشت بدل شخص صاحب لباس را چه خلل ھذا خلاصۃ ما افادہ المجدد الاعظم سیدی احمد رضا جدی فی المستند المعتمد۔ واللہ تعالیٰ اعلم