لفظ اللہ کا ترجمہ لفظ خدا سے کرنے کا جواز اور اس کی تحقیق
(۱) بعض علمائے کرام فرماتے ہیں کہ خدا اللہ کا ترجمہ نہیں اعلیٰ حضرت نے اللہ کا ترجمہ خدا کیوں لکھا مثلاً : وَيَقْطَعُونَ مَا أَمَرَ اللَّهُ بِهِ أَن يُوصَل اور کالتے ہیں اس چیز کو جس کے جوڑنے کا خدا نے حکم دیا۔[البقرة:۲۷] كَيْفَ تَكْفُرُونَ بِاللَّهِ الآية. بھلا تم کیونکر خدا کے منکر ہو گئے۔[البقرة: ۲۸] حَتَّى نَرَى اللَّهَ جَهْرَةً . اب تک علانیہ خدا کو نہ دیکھ لیں۔ [البقرة: ۵۵] كُلُوا وَاشْرَبُوا مِن رِزْقِ اللہ کھاؤ اور پیوخدا کا دیا۔ [البقرة: ۶۰] وَبَاؤُوا بِغَضَبٍ مِنَ اللهِ ۔ اور خدا کے غضب میں لوٹے ۔[البقرۃ: ۲۱] إِنَّ اللهَ يَأْمُرُكُمْ . خدا تمہیں حکم دیتا ہے۔ [البقرة: ۶۷] أَعُوذُ بِاللهِ. خدا کی پناہ [البقرة: ۶۷] هَذَا مِنْ عِندِ الله یہ خدا کے پاس سے ہے۔ [البقرة : ۷۹] فَثَمَّ وَجْهُ الله - ادھر وجہ اللہ خدا کی رحمت تمہاری طرف متوجہ ہے۔ [البقرۃ: ۱۱۵]
(۱) خدا اور اللہ الفاظ مترادفہ ہیں اور دونوں اللہ تعالیٰ کے علم ذات ہیں جن کا اطلاق غیر باری تعالیٰ پر جائز نہیں ،غیاث اللغات میں ہے: اللہ در لغت بمعنی معبود برحق و در اصطلاح علم للذات الواجب الوجود المستجمع بجميع الصفات اللہ لغت میں معبود برحق کے معنی میں ہے اور اصطلاح میں ذات واجب الوجود جامع جملہ صفات کا علم ہے۔ کفایہ میں ہے: اذ لا يطلق على غيره لا حقيقةً ولامجازاً اسم جلالت کا اطلاق اللہ کے سوا کسی پر نہیں ہوتا نہ حقیقہ نہ مجازاً۔ نیز غیاث اللغات میں ہے: چوں لفظ خدا مطلق باشد بر غیر ذات باری تعالیٰ اطلاق نه کنند جب لفظ خدا مضاف نہیں ہوتا تو اس کا اطلاق ذات باری تعالیٰ کے سوا کسی پر نہیں کرتے اسی لئے علمائے کرام فرماتے ہیں کہ ”من خدایم“ کہنا کفر ہے۔ فتاوی عالمگیری میں ہے: ولو قال من خدايم علی وجه المزاح یعنی خود آیم فقد کفر کذا فی التتارخانیه اگر دل لگی کے طور پر فارسی میں کہے ” من خدایم تو وہ کافر ہو جائے گا۔ ان عبارتوں سے ظاہر ہے کہ عجم میں لفظ خدا ذات باری تعالیٰ کے لئے خاص ہے جس طرح لفظ اللہ عربیت میں علم ذات اقدس ہے۔ اسی لئے لفظ اللہ و خدا دونوں کا استعمال فارسی واردو میں ایک دوسرے کی جگہ پر شائع وذائع ہے چنانچہ خدا بولتے ہیں اور اللہ مراد لیتے ہیں اور اللہ بولتے ہیں اور خدا جانتے مانتے سمجھتے ہیں یہی وجہ ہے کہ شیخ محقق عبد الحق محدث دہلوی نے رسول اللہ کا ترجمہ رسول خدا جا بجا کیا ہے تو لا محالہ لفظ خدا اسم جلالت ( اللہ ) کے مرادف ہوا اسی لئے علمائے اعلام نے بلانکیر لفظ خدا کا اطلاق ذات باری تعالیٰ پر جائز فرمایا اور اسے ذات اللہ کا علم مانا۔ شرح المقاصد للعلامة التفتازانی میں ہے۔ ہے: قالوا اهل كل لغة يسمونه باسم مختص بلغتهم كقولهم خدای و تنکری و شاع ذلك و ذاع من غير نكير كان اجماعاً قلنا كفى بالاجماع دليلا على الاذن الشرعى وهذا ما يقال انه لا خلاف فيما يرد فى الاسماء الواردة في الشرع ہر زبان والے اللہ تعالیٰ کا نام لیتے ہیں جو ان کی لغت میں ہے ان کے لئے مخصوص ہے جیسے عجمیوں کا قول خدا اور منکری اور یہ بلانکیر شائع وذائع ہے تو اجماع اذن شرعی پر دلیل کافی ہے اور یہ وہی بات ہے جو کہی جاتی ہیکہ علماء کا ان اسمائے واردہ کے مرادف ہونے پر کوئی اختلاف نہیں ہے۔ اور جب لفظ خدا اسم جلالت کا مرادف ہے اور بالا تفاق ذات باری تعالیٰ کا علم ذات ہے تو اللہ کا ترجمہ خدا کرنا صحیح و درست ہے اور اعتراض ساقط ۔ واللہ تعالیٰ اعلم