اقتباس قرآن کو تحریف سمجھنے کے غلط الزام پر نکاح کی حیثیت
سوال
اگر زید اور مفتی (جس نے اقتباس قرآن کو جائز کہا) شادی شدہ ہوں تو ان کا نکاح باقی رہا یا نہیں؟
الجواببِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّاب
عالم مذکور نے قرآن عظیم سے اقتباس فرمایا ہے اور قرآن عظیم سے اقتباس بالا تفاق جائز ہے۔ اقتباس کو تحریف سمجھنا جہالت فاحشہ ہے۔ اس بنا پر جو سوالات (نکاح ٹوٹنے کے متعلق) قائم کئے وہ ساقط ہیں۔ ان کا نکاح باقی ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم
دار الافتاءبریلی
کتبہ: حضور تاج الشریعہ مفتی محمد اختر رضا خان قادری ازہری
صدر مفتیِ ہند، دار الافتاء بریلی
مأخذ: فتاویٰ تاج الشریعہ، جلد ۱ · صفحہ ۳۹۸–۴۰۰
اسی باب کے متعلقہ فتاویٰ
وہابیوں سے تعلق رکھنے والے اور انہیں کافر نہ کہنے والے کا حکم
باب: کتاب العقائد
اقتباس قرآن کو جائز کہنے والے کی تائید کرنے والوں کے نکاح کا حکم
باب: کتاب العقائد
وہابیوں کی تکفیر کا عمومی شرعی حکم
باب: کتاب العقائد
قیامت سے پہلے قرآن پاک اٹھا لیے جانے کی حقیقت اور کیفیت
باب: کتاب العقائد
اقتباس قرآن کو جائز کہنے والے عالم پر وہابی ہونے کا حکم
باب: کتاب العقائد