حاضر و ناظر کی تحقیق دقیق، جاء الحق کی معتبریت، تعزیہ داری اور مسجد و قبرستان کی بے حرمتی کے متعلق
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: (۱) حضور کو حاضر و ناظر کے بارے میں لوگ غلط بتاتے ہیں کہ حاضر و ناظر نہیں ہیں ۔ ہمارا خیال ہے کہ حاضر وناظر ہیں، موجود ہیں لیکن غیر مقلد علماء کہتے ہیں کہ نہیں ہیں۔ (۲) جب احمد یار خاں مفتی نے قرآن کا ترجمہ نکال کر حدیث فقہ کی بھی سند لیکر جاء الحق وزهق الباطل طبع کرایا ہے اور ایک ہزار روپیہ بھی انعام فرمایا ہے تو یہ کتاب معتبر ہے یا نہیں ہے۔ ہمارا خیال ہے کہ صحیح ہے۔ کیوں کہ آپ کا ہی یہ ترجمہ نکالا ہوا ہے اور آپ ہی نے اس کتاب کو تیاری کرائی ہے۔ لہذا آپ اس کے بارے میں کیا فرماتے ہیں کیوں کہ غیر مقلد وہابی اس کو غلط بتاتے ہیں ۔ (۳) ہمارے یہاں تعزیہ رکھی جاتی ہے۔ ہم اہل سنت و جماعت سے ہیں ہماری نیت اسلام وسنت کے اوپر ہے۔ ہم فاتحہ ایصال ثواب کی نیت سے کھانا پکواتے ہیں اور کھانے کا ثواب بھی گھر میں کرتے ہیں اور اگر ہم تعزیہ کے پاس کھڑے ہو کر کرتے ہیں تو ادب لحاظ کے ساتھ لیکن یہ فاتحہ لوگ ناجائز بتاتے ہیں تو آپ کیا فرماتے ہیں۔ ہمارا خیال ہے کہ نیت فاتحہ کی جب ہے تو کیسے ناجائز ہوا۔ لیکن جیسا آپ فرمائیں وہی اصل مانی جائے گی۔ (۴) مسجد کچی بنی تھی اس کو توڑ کر اس کی جگہ جانور باندھتے ہیں اور مسلمانوں کے قبرستان پرٹی پیشاب کرتے ہیں اور فاتحہ وتعظیم کو غلط بتاتے ہیں ۔ جس کھانے پر فاتحہ ہو جاتی ہے اس کو محتاج یتیموں کے علاوہ کھانا نا جائز بتاتے ہیں اس کے بارے میں کیا فرماتے ہیں۔ لمستفتی: اشفاق احمد پوسٹ دو بہا بازار گونڈہ یوپی
(1) بے شک حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم حاضر و ناظر ہیں بایں معنی کہ حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا نورا تم ہر جگہ اور ہرٹی میں ظاہر وباہر ہے اور جملہ احوال اور اعمال امت بلکہ مشرق و مغرب حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے پیش نظر ہے۔ قال تعالى : يَايُّهَا النَّبِيُّ إِنَّا اَرْسَلْنَكَ شَاهِدًا وَ مُبَشِّرًا وَنَذِيرًا وَدَاعِيَّا إِلَى اللهِ بِإِذْنِهِ وَسِرَاجًا منيرا ه ) یعنی اے نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ہم نے آپ کو بھیجا حاضر و ناظر اور خوشخبری دیتا اور ڈر سناتا اور اللہ کی طرف بلانے والا اور چمکتا آفتاب بنا کر۔ تفسیر آلوسی میں ہے: (شاهدا على من بعثت اليهم تراقب احوالهم وتشاهد اعمالهم وتتحمل عنهم الشهادة بماصدر عنهم من التصديق والتكذيب وسائر ماهم عليه من الهدى والضلال وتأديها يوم القيامة اداء مقبولا فيما لهم وما عليهم (۲) یعنی ہم نے بھیجا حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو اپنی امت پر شاہد ( حاضر و ناظر ) بنا کر کہ ان کے اعمال و احوال کا مشاہدہ فرمائیں اور ان کی تصدیق و تکذیب و ہدایت وضلالت کے گواہ بنیں اور قیامت کے دن گواہی دیں ۔ ”اقرب السبل“ میں شیخ محقق عبد الحق محدث دہلوی فرماتے ہیں: و با چند میں اختلافات و کثرت مذاہب که در علمائے امت است یک کس را در این مسئله خلافی نیست کہ آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم حقیقت حیات بے شائبہ مجاز و تو هم تاویل دائم و باقیست و بر اعمال امت حاضر و ناضر ومرطالبان حقیقت را و متو جہان اس حضرت را منفیض و مربی است (۳) اسی لئے نماز میں حکم ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ کو مخاطب کر کے عرض کریں السلام علیک ایھا النبی کہ حضور ا کرم مومنوں کے نصب العین اور عابدوں کے قرۃ العین اور ان کی حقیقت مخلوقات میں خصوصاً نمازیوں کی ذات میں جاری وساری ہے۔ اور حضرت الہیہ میں بھی وہ ہمیشہ حاضر ہیں۔ میں شیخ عبدالحق محدث علیہ الرحمہ اشعۃ اللمعات میں فرماتے ہیں: و نیز آس ( حضرت صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ) ہمیشہ نصب العین مومنان وقرة العین عابدان است در جمیع احوال و اوقات خصوصاً در حالت عبادت و آخر آن کہ وجود نورانیت و انکشاف در یں محل بیشتر وقوی تر است و بعض از عرفا گفته اند کہ ایں خطاب بہت سریان حقیقت محمدیه است در ذرائر موجودات وافراد ممکنات پس آن حضرت در ذات مصلیان موجود و حاضر است پس مصلی را باید که از میں معنی آگاه باشد و از میں شہود غافل نبود تا به انوار قرب و اسرار معرفت متنور و فائض گردد - الخ (۱) بتائی کہ: شفا شریف میں فرمایا کہ جب خالی گھر میں جاؤ تو السلام علیک ایھا النبی کہو ملا علی قاری نے وجہ ،، ان روح النبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم حاضرة في بيوت اهل الاسلام (۲) یعنی حضور انور سالی یتیم کی روح پاک مسلمانوں کے ہر گھر میں حاضر ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم