میت کی طرف سے کی گئی قربانی کے گوشت کا حکم
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ تکملہ (1) زید کہتا ہے کہ میرا باپ مرگیا اور میں نے اپنے باپ کے نام سے قربانی کی ، وہ گوشت نہ میں کھا سکتا ہوں نہ کسی غنی کو کھلا سکتا ہوں، وہ سب گوشت غریب ومسکین کو صدقہ کر دینے کا حکم ہے اور قانون شریعت کے ص ۱۶۵؎ کو کھول کر دکھاتا ہے ، وہ یہ کہ : مسئلہ : قربانی اگر میت کی ہے تو اس کا گوشت نہ خود کھا سکتا ہے نہ غنی کو کھلا سکتا ہے بلکہ اس کو صدقہ کر دینا واجب ہے۔ (زیلعی و بہار ) (۲) سرکار دوعالم لے کے حصہ کی قربانی کے گوشت کیلئے کیا حکم ہے ؟ غریب امیر کھا سکتے ہیں یا نہیں ؟ (۳) بقر عید کی نماز کے پہلے لوگ کھاتے ہیں، اس کے متعلق شریعت مطہرہ کا کیا حکم ہے؟ خلاصہ قرآن و حدیث کریمہ کی روشنی میں تحریر فرمائیں۔
الجواب: (1) زید نے اگر اپنے مُردہ باپ کی طرف سے قربانی باپ کے حکم سے کی تو زید کا قول صحیح ہے۔ اس صورت میں دو گوشت نہ خود کھائے نہ کسی غنی کو کھلائے بلکہ فقراء پر صدقہ کر دینا لازم ہے اور اگر باپ کی طرف سے قربانی بغیر حکم کی تو اسے صدقہ کرنالازم نہیں۔ در مختار میں ہے: "وعن ميت بالامر الزم تصدقا والا فكل منها هذا المحبر " (1) الدر المختار، كتاب الاضحية ، ج ۹، ص ٤٨٤ ، دار الكتب العلمية، بيروت رد المحتار میں ہے: "قوله (وعن ميت) اى لو ضحى عن ميت وارثه الزمه بالتصديق بها وعدم الاكل منها وان تبرع بها عنه له الأكل لانه يقع على ملك الذابح والثواب للميت (1)" اسی میں ہے: "من ضحى عن الميت كما يصنع في اضحية نفسه من التصدق والأكل والأجر للميت والملك للذابح قال الصدر والمختار انه ان بامر الميت لا يأكل منها والا يأكل - بزازية (٢)" قانون شریعت کی عبارت کا مطلب وہی ہے جو ہم نے پہلے لکھا اور اس پر خود عبارت مشیر ہے که فرمایا ”قربانی اگر میت کی ہے “۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۲) سب کو کھانا جائز ہے ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۳) جائز ہے مگر بہتر یہ ہے کہ نماز عید سے پہلے نہ کھائے۔ در مختار میں ہے: و يندب تأخير اكله عنها وان لم يصح في الأصح ولو أكل لم يكره (3) رد المحتار میں ہے: قوله (لم يكره) قال في البحر وهو مستحب ولا يلزم من ترك المستحب ثبوت الكراهة اذ لا بدلها من دلیل خاص - اه (۴) واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضاخاں از هری قادری غفرله شب ۱۴/ ذوالحجہ ۱۴۰۲ھ