وصیت جس کے لئے کی جائے وہ اس کا مالک ہو گا!
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں ایک عورت کافرہ تھی ، کچھ دنوں بعد مسلمان ہو کر دائرہ اسلام میں داخل ہو گئی، اب اس کا کوئی رشتہ دار نہیں ۔ جب وہ یتیم ہوگئی تو موضع کے لوگ اس کو صدقہ زکوۃ دینے لگے اور وہ عورت لینے لگی۔ کچھ دنوں بعد کافی پیسہ جمع ہو گیا تو اس نے حج کا فارم بھر کر دو مرتبہ حج کر آئی۔ اس کو اسلام کے بارے میں کافی معلومات ہوگئی، پرہیز گار ، عابدہ تھی، پھر تیسری مرتبہ حج کا فارم بھرا لیکن اس سال منظور نہ ہوا، روپیہ واپس چلا آیا۔ اتفاق سے وہ بیمار پڑگئی، کم سے کم ایک سال بیمار رہی، ۱۲مر رمضان المبارک کو انتقال کر گئی۔
اگر واقعہ یہ ہے کہ اس عورت نے بقیہ مال کی وصیت اس کے لئے کی تھی تو وہ شخص حسب وصیت اس کا مالک ہو گیا، اسے اختیار ہے جو چاہے کرے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضاخاں از هری قادری غفرله ۲۶ / رمضان المبارک ۱۴۰۲ھ