بیوی اور غیر وارث کے لیے وصیت اور لاوارث جائیداد کے مصارف کا بیان
شخص اپنی زندگی میں اپنی جائیداد کا کتنا حصہ اپنی بیوی کو وصیت کر سکتا ہے ؟ (۲) بیوی کے علاوہ کسی دوسرے عزیز کو اگر وصیت کرنا چاہے تو کتنا کر سکتا ہے ؟ (۳) کوئی شخص انتقال کر جائے نہ اولاد چھوڑے اور نہ رشتہ دار تو اس زمانے میں اس کی جائیداد کا مستحق کون ہے؟ بینوا توجروا المستفتی: عبدالشکور حاجی محمد گوڈیل، مدرسہ مسکینیہ کیراف پلاواڈ میر قاضی مسجد ، دھوراجی ،گجرات
الجواب: (1) بیوی وارث ہے اور وارث کے لئے وصیت جائز نہیں مگر یہ کہ ورثہ اسے جائز کر دیں تو جائز ہو جائے گی۔ حدیث میں ہے: لا وصية لوارث الا ان يجيز الورثة . لہذ اوصیت نہ کرے بلکہ بیوی کو ہبہ کر دے اور اسے موہوب پر قبضہ دلا دے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۲) تہائی مال کی جبکہ وہ وارث نہ ہو۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۳) فقراء مسلمین کو ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضاخاں از هری قادری غفرلہ ۱۵/ رمضان المبارک ۱۴۰۱ھ صح الجواب۔ اگر تنہا بیوی ہے ، اس کے علاوہ کوئی وارث نہیں تو اس کو ہبہ کر دے یا وصیت کر دے اور وارث ہونے کی صورت میں وارثوں کو محروم نہ کرے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (1) سنن الدار قطني ، كتاب الوصايا، ج ٣،٤، ص ١٥٢ ، عالم الكتب قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی دار الافتاء منظر اسلام، محله سوداگران، بریلی