مسجد کی دوسری منزل کی تعمیر، چھت پر نماز اور دیگر فنڈز سے قرض لینے کا شرعی حکم
درخواست عام مسلمان سادڑی گارڈن کی طرف سے یہ ہے کہ تكملة (1) ہمارے گاؤں میں مسجد میں نماز ادا کرنے واسطے جگہ کی تنگی ہے یعنی جگہ کم ہے اس لئے ہم موجودہ بنی ہوئی مسجد پر دوسری منزل بنانا چاہتے ہیں تو اس کے لئے مذہبی کیا حکم ہے؟ (۲) اگر پیش امام صاحب نیچے مسجد میں نماز پڑھاتے ہیں اور کچھ مقتدی مسجد کے اوپر چھت پر نماز ادا کرتے ہیں تو جائز ہے یا نہیں ؟ (۳) مسجد کے تعمیری کام میں مدرسہ کے کھاتے سے اور قبرستان کے کھاتے سے نیز در گاہ کمیٹی کے کھاتے سے اُدھار (قرض) لے کر رقم خرچ کر سکتے ہیں یا نہیں، یہ رقم مسجد کے تعمیری کھاتے میں جمع ہونے پر واپس لوٹا دی جاوے گی۔ برائے مہربانی جلد سے جلد لوٹتی ڈاک سے فتویٰ عطا فرمادیں تاکہ مسجد کا تعمیری کام بعد رمضان کے شروع کیا جائے۔ فقط ، والسلام آپ کا خاکسار سکریٹری سنت المسلم مسجد سادڑی ماسٹر لال خاں پٹھان نئی آبادی سادڑی (پالی) پوسٹ سادڑی راجستھان ، ۳۰۶۷۰۲
الجواب: (1) اجازت ہے ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۲) جائز ہے جبکہ نیچے جگہ نہ رہے ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۳) قرض لے سکتے ہیں جبکہ ادائیگی قرض ممکن ہو، ورنہ نہیں۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضاخان از هری قادری غفرله