واہب اپنی حیات میں قابض و دخیل کر دے تو ہبہ تام ہو جائے گا!
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں : کئی کنویاں کے کلن کی ایک لڑکی کی شادی محمد حسین ساکن محلہ ملوکپور کسگر ان سے ہوئی تھی، بوقت نکاح یہ بات لڑکی والوں نے اٹھائی کہ لڑکی کے نام ایک مکان ہونا چاہئے جو کہ آپ کو لکھنا ہو گا، اس پر محمد حسین کے بڑے بھائی تصور حسین نے ایک اپنا حصہ اور ایک حصہ محمد حسین کا نام میں لکھ دیا جبکہ پورا مکان والدہ کے نام میں تھا اور والدہ صاحبہ اور والد صاحب اس وقت حیات تھے۔ ایسی صورت میں جو محمد حسین کے بھائی نے حصے نام میں لکھے ہیں، جائز ہیں ؟ شادی کے کچھ عرصے بعد محمد حسین اور ان کی بیوی پاکستان چلے گئے اور سارا جہیز کا سامان اور زیورات بھی اپنے ساتھ لے گئے ، پاکستان پہنچنے کے بعد محمد حسین کی بیوی نے دوسرا نکاح کر لیا اور محمد حسین اکیلے واپس بریلی چلے آئے ، محمد حسین نے ابھی تک طلاق بھی نہیں دی ہے جبکہ ان کی بیوی کو پاکستان گئے ہوئے تقریبا ۲۴/ سال ہو چکے ہیں۔ شریعت
الجواب: والدہ نے اگر تصور حسین کے فعل مذکور کو جائز کر دیا ہو اور دونوں بیٹوں کو اس زمین پر خوشی ۔ قابض و دخیل و متصرف کر دیا ہو تو وہ مکان ان دونوں کی ملک ہے اور اگر والدہ نے ان دونوں کو قبضہ نہ دلایا تو وہ مکان انکی ملک نہ ہوا بلکہ شامل ترکہ ہو گا اور ورثہ اس میں حقدار ہوں گے ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضاخان از هری قادری غفرله یکم رصفر المظفر ۱۴۰۳ھ