باپ بیٹا ایک کاروبار میں شریک ہوں تو شرکت کب صحیح کب فاسد ؟
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مندرجہ ذیل مسائل میں : (1) زید بسلسلہ تجارت اپنا شریک کار اپنی بالغ اولادوں سے کسی ایک کو آدھایا ایک تہائی کا بناسکتا ہے کہ نہیں ؟ (۲) اگر بنا دیا ہے اس نے تو کیا اولاد مذکورہ بنائے ہوئے حصہ کا مالک بن سکت ہے یا نہیں ؟ (۳) مذکورہ متعینہ حصہ کو اگر کل یا بعض والد یا اولاد سے لے لے تو حقوق العباد میں گرفتار ہوں گے یا نہیں؟ (۴) گھریلو اخراجات کو جانبین میں سے کوئی ایک برداشت کرے گا یا مشترکہ دولت سے ؟ (۵) مشتر کہ نفع سے اگر کوئی چیز خرید لی گئی تو جانبین میں سے ہر ایک حقدار ہوگا یا کوئی بھی ایک ؟ دلائل عقلیہ و نقلیہ کے ساتھ جواب مرحمت فرمائیں۔ المستفتی: مبوب عالم ولد حاجی بندے علی ۹۷/۲۹۹ / بیکن گنج ، کانپور ، اتر پردیش
الجواب بعون الملک الوہاب : (۳،۲۰۱) شریک کار بنا سکتا ہے مگر جو کچھ کمائی ہوگی وہ باپ کی ہوگی، بیٹا معین و مددگار قرار پائے گا۔ ردالمختار میں ہے: " فى القنية الاب وابنه يكتسبان في صنعة واحدة ولم يكن لهما شيء فالكسب كله للاب ان كان الابن فى عياله لكونه معينا له الا ترى لو غرس شجرة تكون للاب (1) (1) رد المحتار على الدر ، كتاب الشركة ، مطلب: اجتمعا في دار واحدةً واكتسبا ، ج ٦ ، ص ٥٠٢ ، دار الكتب العلمية، بيروت. اور اگر بیٹا علیحدہ رہتا ہے اور اس نے تجارت میں شرکت کے لئے رقم دی ہے تو وہ شریک قرار پائے گا پھر بھی اگر باپ کو حاجت ہے تو وہ اپنی اولاد کے مال سے لے سکتا ہے۔ حدیث شریف میں ہے: "انت ومالك لابيك" (1) دوسروں کو اجازت کی ضرورت۔ واللہ تعالی اعلم (۴) اگر باپ کے ساتھ رہتا ہے تو وہ معین و مددگار ہے اور باپ گھر یلو اخراجات کا کفیل ہے اور اگر باپ سے علیحدہ ہے تو اپنے پاس سے کرے، مشتر کہ دولت سے نہ کرے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۵) اگر خاص اپنے لئے خریدی ہے تو وہ مالک ہے اور شریک کے حصہ کا وہ ضامن ہے اور شریک کے حصہ کا تاوان دے۔ فتاوی خیریہ میں ہے: "وما اشتراه احدهم لنفسه يكون له ويضمن حصة شركائه من ثمنه اذا دفعه من المال المشترك " (۲) مگر یہ صورت آمیں ہے کہ شرکت صحیح ہو، باپ بیٹے کی شرکت کی صورت او پر مذکور ہوئی ہیں جس صورت میں شرکت درست ہو تو اس کا حکم یہ ہے اور شرکت درست نہ ہو تو یہ حکم نہیں۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں قادری از هری غفرلہ