قبر پر اذان پڑھنا جائز و مستحسن ہے
سوال
قبر پر اذان پڑھنا جائز و مستحسن ہے! کیا فرماتے ہیں علمائے دین و شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ: ۱۹ ربیع الاول ۱۴۰۷ھ زید نے بعد دفن میت کے فی الفور دونوں کان میں انگلی ڈال کر اور قبلہ رو ہو کر بآواز بلند قبر پر اذان کہی۔ کیا ایسا کرنا شرعاً جائز ہے ؟ کتاب و سنت سے مع حوالہ جواب فرماکر شکریہ کا موقع عنایت فرمائیں ، فقط ۔ والسلام مولوی محمد طاؤس، مقام چیر ڈیہ، پوسٹ موڑ بھنگا، ضلع دمکا، بہار
الجواببِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّاب
الجواب: جائز و مستحسن ہے، تفصیل کے لئے ایذان الاجر فی اذان القبر“ تصنیف اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ ملاحظہ ہو۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضاخاں از هری قادری غفرله صبح الجواب۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ شب ۱۵/ ربیع الاول ۱۴۰۷ھ
دار الافتاءبریلی
کتبہ: حضور تاج الشریعہ مفتی محمد اختر رضا خان قادری ازہری
صدر مفتیِ ہند، دار الافتاء بریلی
مأخذ: فتاویٰ تاج الشریعہ، جلد ۱۱ · صفحہ ۱۵۹